مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابُ فَضْلِ إِبْرَاهِيمَ ابْنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . باب: نبی اکرم ﷺ کے صاحبزادے حضرت ابراہیم رضی اللہ عنہ کی فضیلت کا بیان
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : كَانَتْ سُرِّيَّةُ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أُمُّ إِبْرَاهِيمَ فِي مَشْرُبَةٍ لَهَا ، وَكَانَ قِبْطِيٌّ يَأْوِي إِلَيْهَا ، وَيَأْتِيهَا بِالْمَاءِ وَالْحَطَبِ ، فَقَالَ النَّاسُ فِي ذَلِكَ : عِلْجٌ يَأْوِي إِلَى عِلْجَةٍ . فَبَلَغَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَرْسَلَ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ فَأَمَرَهُ بِقَتْلِهِ ، فَانْطَلَقَ فَوَجَدَهُ عَلَى نَخْلَةٍ ، فَلَمَّا رَأَى الْقِبْطِيُّ السَّيْفَ مَعَ عَلِيٍّ وَقَعَ ، فَأَلْقَى الْكِسَاءَ الَّذِي عَلَيْهِ ، فَاقْتَحَمَ فَإِذَا هُوَ مَجْبُوبٌ ، فَرَجَعَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَرَأَيْتَ إِذَا أَمَرْتَ أَحَدَنَا بِأَمْرٍ ثُمَّ رَأَيْتَ غَيْرَ ذَلِكَ ، أَيُرَاجِعُكَ ؟ قَالَ : " نَعَمْ " . فَأَخْبَرَهُ بِمَا رَأَى مِنْ أَمْرِ الْقِبْطِيِّ . قَالَ : فَوَلَدَتْ أُمُّ إِبْرَاهِيمَ إِبْرَاهِيمَ ، فَكَانَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْهُ فِي شَكٍّ حَتَّى جَاءَهُ جِبْرِيلُ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - فَقَالَ : السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا أَبَا إِبْرَاهِيمَ ، فَاطْمَأَنَّ إِلَى ذَلِكَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک کنیز تھیں ، جو سیدنا ابراہیم رضی اللہ عنہ کی والدہ ہیں ، اس خاتون کا ایک بالاخانہ تھا ، ایک قبطی شخص اس خاتون کے پاس آیا کرتا تھا ، وہ ان کے پاس پانی اور لکڑیاں لایا کرتا تھا ، لوگوں نے اس بارے میں بات چیت کی کہ ایک شخص ، ایک عورت کے پاس آتا ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بات کی اطلاع ملی تو آپ نے سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ کو بلایا اور انہیں یہ حکم دیا کہ وہ اس شخص کو قتل کر دیں ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ گئے ۔ انہوں نے اس شخص کو کھجور کے ایک درخت پر پایا ، جب قبطی نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ تلوار دیکھی تو وہ اوپر سے نیچے گرا ، اس کے جسم پر موجود چادر ہٹ گئی تو اس شخص کی شرمگاہ نہیں تھی ۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس واپس آئے ، انہوں نے عرض کی : اس بارے میں آپ کی کیا رائے ہے کہ اگر آپ ہم میں سے کسی ایک کو کوئی حکم دیتے ہیں ، اور پھر وہ شخص مختلف صورت حال پاتا ہے ، تو کیا آپ کی طرف رجوع کر لے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جی ہاں ! تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے قبطی کا جو معاملہ دیکھا تھا اس کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا ۔ راوی بیان کرتے ہیں : سیدنا ابراہیم رضی اللہ عنہ کی والدہ نے جب سیدنا ابراہیم رضی اللہ عنہ کو جنم دیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس حوالے سے کچھ شک تھا ، یہاں تک کہ سیدنا جبرائیل علیہ السلام آئے اور بولے : اے ابوابراہیم ! آپ کو سلام ہو ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس حوالے سے اطمینان ہوا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔