حدیث نمبر: 14946
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ عَمِيَ ، فَبَعَثَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - اخْطُطْ لِي فِي دَارِي مَسْجِدًا لِأُصَلِّيَ فِيهِ ، فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَقَدِ اجْتَمَعَ إِلَيْهِ قَوْمُهُ ، فَتَغَيَّبَ رَجُلٌ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا فَعَلَ فُلَانٌ ؟ " . فَذَكَرَهُ بَعْضُ الْقَوْمِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَلَيْسَ قَدْ شَهِدَ بَدْرًا ؟ " . قَالُوا : نَعَمْ ، وَلَكِنَّهُ كَذَا وَكَذَا . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " فَلَعَلَّ اللَّهَ اطَّلَعَ إِلَى أَهْلِ بَدْرٍ ، فَقَالَ : اعْمَلُوا مَا شِئْتُمْ ; فَقَدْ غَفَرْتُ لَكُمْ " . ¤ قُلْتُ : رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ ، وَابْنُ مَاجَهْ بِاخْتِصَارٍ كَثِيرٍ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انصار سے تعلق رکھنے والا ایک شخص نابینا ہو گیا اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو پیغام بھیجا کہ آپ میرے گھر میں نماز کے لئے جگہ مخصوص کرنے کے لئے نشان دہی کر دیں تاکہ میں وہاں نماز ادا کیا کروں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اس شخص کی قوم کے کچھ افراد آپ کے گرد اکٹھے ہو گئے ، ایک شخص وہاں موجود نہیں تھا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : فلاں کا کیا حال ہے ؟ حاضرین میں سے کسی نے اس کا ذکر ( منفی انداز میں ) کیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیا اس نے بدر میں شرکت نہیں کی ہے ؟ لوگوں نے بتایا جی ہاں ، لیکن وہ ایسا ایسا شخص ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” ہو سکتا ہے اللہ تعالیٰ نے اہل بدر کی طرف جھانک کر یہ فرمایا ہو : تم لوگ جو چاہو عمل کرو ، میں نے تمہاری مغفرت کر دی ہے ۔ “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں یہ روایت امام ابوداؤد اور امام ابن ماجہ نے بہت زیادہ اختصار کے ساتھ نقل کی یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14946
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔