مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابُ مَنَاقِبِ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ الْجَرَّاحِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ باب: حضرت ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کے مناقب کا بیان
وَعَنْ شُرَيْحِ بْنِ عُبَيْدٍ ، وَرَاشِدِ بْنِ سَعْدٍ ، وَغَيْرِهِمَا ، قَالُوا : لَمَّا بَلَغَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ سَرْغَ حُدِّثَ أَنَّ بِالشَّامِ وَبَاءً شَدِيدًا . ¤ قَالَ : بَلَغَنِي أَنَّ شِدَّةَ الْوَبَاءِ بِالشَّامِ ، فَقُلْتُ : إِنْ أَدْرَكَنِي أَجَلِي وَأَبُو عُبَيْدَةَ حَيٌّ اسْتَخْلَفْتُهُ ، فَإِنْ سَأَلَنِي اللَّهُ : لِمَ اسْتَخْلَفْتَهُ عَلَى أُمَّةِ مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ قُلْتُ : إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " لِكُلِّ نَبِيٍّ أَمِينٌ وَأَمِينِي أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ " فَأَنْكَرَ الْقَوْمُ ذَلِكَ ، وَقَالُوا : مَا بَالُ عُلْيَا قُرَيْشٍ ؟ يَعْنِي : بَنِيِ فِهْرٍ . ¤ ثُمَّ قَالَ : فَإِنْ أَدْرَكَنِي أَجَلِي وَقَدْ تُوُفِّيَ أَبُو عُبَيْدَةَ اسْتَخْلَفْتُ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ ، فَإِنْ سَأَلَنِي رَبِّي لِمَ اسْتَخْلَفْتَهُ ؟ قُلْتُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : إِنَّهُ يُحْشَرُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بَيْنَ يَدَيِ الْعُلَمَاءِ نَبْذَةً " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَهُوَ مُرْسَلٌ ، رَاشِدٌ وَشُرَيْحٌ لَمْ يُدْرِكَا عُمَرَ . ¤شریح بن عبید اور راشد بن سعد اور دیگر لوگ یہ بیان کرتے ہیں : جب ” سرغ “ کے مقام پر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو یہ اطلاع ملی کہ شام میں شدید وباء پھیل چکی ہے ، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے یہ فرمایا کہ مجھے یہ بات پتہ چلی ہے کہ شام میں شدید وباء پھیل چکی ہے میں نے یہ سوچا تھا کہ اگر میری موت آ گئی اور اس وقت ابوعبیدہ زندہ ہوئے تو میں انہیں اپنا جانشین مقرر کر دوں گا ، اور اگر اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں مجھ سے پوچھا: تم نے اسے سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی امت پر کیوں خلیفہ مقرر کیا ؟ تو میں جواب دوں گا : میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” ہر نبی کا ایک امین ہوتا ہے ، اور میرا امین ابوعبیدہ بن جراح ہے ۔ “ اس پر لوگوں نے یہ اعتراض کیا اور یہ کہا: قریش کے دور کے خاندان کا کیا معاملہ ہے ؟ راوی کہتے ہیں : اس سے مراد بنو فہر ہونا تھا ۔ پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے یہ بات ارشاد فرمائی کہ اگر میری موت آ گئی اور اس وقت ابوعبیدہ کا انتقال ہو گیا ، تو میں معاذ بن جبل کو اپنا نائب مقرر کر دوں گا ، اگر میرے پروردگار نے مجھ سے پوچھا: کہ تم نے اسے کیوں خلیفہ بنایا ہے ، تو میں یہ کہوں گا کہ میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” اسے قیامت کے دن علماء کے آگے ” نبذہ “ ( یعنی گوشہ یا کنارہ ) کے طور پر ( یعنی الگ نمایاں حیثیت کے ساتھ ) اُٹھایا جائے گا ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور
یہ روایت مرسل ہے راشد اور شریح ان دونوں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے ۔