حدیث نمبر: 14911
وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : جَاءَ الْعَاقِبُ وَالسَّيِّدُ صَاحِبَا نَجْرَانَ قَالَ : وَأَرَادَا أَنْ يُلَاعِنَا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . قَالَ : فَقَالَ أَحَدُهُمَا لِصَاحِبِهِ : لَا تُلَاعِنَنَّ ، فَوَاللَّهِ لَئِنْ كَانَ نَبِيًّا فَلَاعَنَّاهُ لَا نُفْلِحُ نَحْنُ وَلَا عَقِبُنَا أَبَدًا . ¤ قَالَ : فَأَتَيَاهُ فَقَالَا : لَا نُلَاعِنُكَ ، وَلَكِنَّا نُعْطِيكَ مَا سَأَلْتَ فَابْعَثْ مَعَنَا رَجُلًا أَمِينًا ، قَالَ : فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَأَبْعَثَنَّ رَجُلًا حَقَّ أَمِينٍ ، حَقَّ أَمِينٍ " : قَالَ : فَاسْتَشْرَفَ لَهَا أَصْحَابُ مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " قُمْ يَا أَبَا عُبَيْدَةَ بْنَ الْجَرَّاحِ . فَلَمَّا قَامَ قَالَ : " هَذَا أَمِينُ هَذِهِ الْأُمَّةِ " . ¤ قُلْتُ : عِنْدَ ابْنِ مَاجَةَ طَرَفٌ مِنْهُ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ ، وَرِجَالُ الْبَزَّارِ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، وَكَذَلِكَ رِجَالُ أَحْمَدَ غَيْرَ خَلَفِ بْنِ الْوَلِيدِ وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نجران سے تعلق رکھنے والے دو افراد عاقب اور سید آئے ، راوی بیان کرتے ہیں : انہوں نے یہ ارادہ کیا کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مباہلہ کریں گے ، راوی بیان کرتے ہیں : ان دونوں میں سے ایک نے اپنے ساتھی سے کہا: تم مباہلہ ہرگز نہ کرنا ، اللہ کی قسم ! اگر یہ نبی ہوئے اور ہم نے ان کے ساتھ مباہلہ کیا ، تو پھر ہم بھی کامیاب نہیں ہوں گے ، اور نہ ہی ہماری اولاد کبھی کامیاب ہو گی ۔ راوی کہتے ہیں : وہ دونوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور ان دونوں نے کہا: ہم دونوں آپ کے ساتھ مباہلہ نہیں کریں گے بلکہ ہم آپ کو وہ ادائیگی کر دیں گے جو آپ مانگیں گے آپ ہمارے ساتھ کسی امین شخص کو بھیج دیں ۔ راوی کہتے ہیں : تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میں ایک ایسے شخص کو بھیجوں گا جو واقعی امین ہو گا ، واقعی امین ہو گا ۔ راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب پوری طرح متوجہ ہو گئے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے ابوعبیدہ بن جراح تم اٹھ جاؤ ، جب وہ کھڑے ہوئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یہ اس امت کا امین ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں امام بن ماجہ نے اس روایت کا ایک حصہ نقل کیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور امام بزار نے نقل کی ہے ، امام بزار کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں اسی طرح امام أحمد کے رجال ہیں صرف خلف بن ولید کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14911
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح