مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابُ مَنَاقِبِ الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - . باب: حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کے مناقب کا بیان
وَعَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ قَالَتْ : فَقَالَ حَسَّانٌ :
أَقَامَ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ وَهَدْيِهِ حَوَارِيُّهُ وَالْقَوْلُ بِالْفِعْلِ يُعْدَلُ هُوَ الْفَارِسُ الْمَشْهُورُ وَالْبَطَلُ الَّذِي
يَصُولُ إِذَا مَا كَانَ يَوْمٌ مُحَجَّلُ إِذَا كَشَفَتْ عَنْ سَاقِهَا الْحَرْبُ حَشَّهَا
بِأَبْيَضَ سَبَّاقٍ إِلَى الْمَوْتِ يَرْمُلُ وَإِنِ امْرُؤٌ كَانَتْ صَفِيَّةُ أُمُّهُ
وَمِنْ أَسَدٍ فِي بَيْتِهَا لَمُؤَمَّلُ
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي حَدِيثٍ طَوِيلٍ قَدْ تَقَدَّمَ فِي كِتَابِ الْأَدَبِ ، وَيَأْتِي فِي الشِّعْرِ ، وَأَبْوَابِهِ فِي أَوَاخِرِ الْكِتَابِ .
سیدہ اسماء بنت ابوبکر رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : سیدنا حسان رضی اللہ عنہ نے یہ اشعار کہے : ” نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ( سے کیے ہوئے ) عہد اور آپ کے طریقے پر برقرار رہے ، وہ جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حواری ہیں ، اور قول کو عمل کے ساتھ جانچا جاتا ہے ، وہ مشہور شہوار اور جانباز تھے ، اور جب جنگ کا دن آتا تھا تو وہ حملہ آور ہوتے تھے ، جب جنگ اپنی پنڈلی سے کپڑا ہٹا دیتی تھی ، تو وہ دوڑتے ہوئے موت کی طرف لپکتے ہیں اور اس کو کاٹ کے رکھ دیتے ہیں ، وہ ایک ایسے فرد ہیں کہ سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا ان کی والدہ ہیں ، ان کا تعلق بنو اسد سے ہے اور ان کے گھرانے سے ( ایسے ہی فرد کی ) توقع کی جا سکتی ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے ایک طویل حدیث میں نقل کی ہے جو اس سے پہلے کتاب الادب میں گزر چکی ہے ، اور آگے چل کر شعر اور اس کے ابواب سے متعلق کتاب کے آخر میں آئے گی ۔