حدیث نمبر: 14846
وَعَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ قَالَتْ : فَقَالَ حَسَّانٌ : ¤ أَقَامَ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ وَهَدْيِهِ حَوَارِيُّهُ وَالْقَوْلُ بِالْفِعْلِ يُعْدَلُ هُوَ الْفَارِسُ الْمَشْهُورُ وَالْبَطَلُ الَّذِي ¤ يَصُولُ إِذَا مَا كَانَ يَوْمٌ مُحَجَّلُ إِذَا كَشَفَتْ عَنْ سَاقِهَا الْحَرْبُ حَشَّهَا ¤ بِأَبْيَضَ سَبَّاقٍ إِلَى الْمَوْتِ يَرْمُلُ وَإِنِ امْرُؤٌ كَانَتْ صَفِيَّةُ أُمُّهُ ¤ وَمِنْ أَسَدٍ فِي بَيْتِهَا لَمُؤَمَّلُ ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي حَدِيثٍ طَوِيلٍ قَدْ تَقَدَّمَ فِي كِتَابِ الْأَدَبِ ، وَيَأْتِي فِي الشِّعْرِ ، وَأَبْوَابِهِ فِي أَوَاخِرِ الْكِتَابِ . ¤
محمد محی الدین

سیدہ اسماء بنت ابوبکر رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : سیدنا حسان رضی اللہ عنہ نے یہ اشعار کہے : ” نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ( سے کیے ہوئے ) عہد اور آپ کے طریقے پر برقرار رہے ، وہ جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حواری ہیں ، اور قول کو عمل کے ساتھ جانچا جاتا ہے ، وہ مشہور شہوار اور جانباز تھے ، اور جب جنگ کا دن آتا تھا تو وہ حملہ آور ہوتے تھے ، جب جنگ اپنی پنڈلی سے کپڑا ہٹا دیتی تھی ، تو وہ دوڑتے ہوئے موت کی طرف لپکتے ہیں اور اس کو کاٹ کے رکھ دیتے ہیں ، وہ ایک ایسے فرد ہیں کہ سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا ان کی والدہ ہیں ، ان کا تعلق بنو اسد سے ہے اور ان کے گھرانے سے ( ایسے ہی فرد کی ) توقع کی جا سکتی ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے ایک طویل حدیث میں نقل کی ہے جو اس سے پہلے کتاب الادب میں گزر چکی ہے ، اور آگے چل کر شعر اور اس کے ابواب سے متعلق کتاب کے آخر میں آئے گی ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14846
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف