مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابُ مَنَاقِبِ الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - . باب: حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کے مناقب کا بیان
عَنْ يَحْيَى بْنِ بُكَيْرٍ قَالَ : قُتِلَ الزُّبَيْرُ بْنُ الْعَوَّامِ يَوْمَ الْجَمَلِ فِي جُمَادَى - لَا أَدْرِي الْأُولَى أَوِ الْآخِرَةُ - سَنَةَ سِتٍّ وَثَلَاثِينَ . ¤ وَأَخْبَرَنِي اللَّيْثُ عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ عُرْوَةُ : أَنَّ الزُّبَيْرَ أَسْلَمَ وَهُوَ ابْنُ ثَمَانِ سِنِينَ ، وَكَانَ يُكَنَّى أَبَا عَبْدِ اللَّهِ ، فَإِنْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَقَامَ بِمَكَّةَ ثَلَاثَ عَشْرَةَ سَنَةً فَهُوَ يَوْمَ قُتِلَ ابْنُ سَبْعٍ وَخَمْسِينَ ، وَإِنْ كَانَ أَقَامَ عَشْرَ سِنِينَ ، فَالزُّبَيْرُ ابْنُ أَرْبَعٍ وَخَمْسِينَ سَنَةً . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤یحیی بن بکیر بیان کرتے ہیں : سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ جنگ جمل کے موقع پر جمادی کے مہینے میں سن چھتیس ہجری میں شہید ہوئے تھے ، مجھے نہیں معلوم کہ یہ جمادی الاول تھا یا جمادی الثانی تھا ۔ لیث نے ابواسود کے حوالے سے یہ بات نقل کی ہے کہ عروہ نے انہیں بتایا ہے کہ جب سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ نے اسلام قبول کیا تھا ، تو اس وقت ان کی عمر آٹھ سال تھی اور ان کی کنیت ابوعبداللہ تھی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اگر مکہ میں تیرہ سال مقیم رہے ہوں تو شہادت کے موقع پر سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کی عمر ستاون سال ہونی چاہیے اور اگر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دس سال مکہ میں رہے ہوں تو سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کی عمر چون سال ہونی چاہیے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔