حدیث نمبر: 14842
وَعَنِ ابْنِ عَوْنٍ قَالَ : هَؤُلَاءِ الْأَخْيَارُ قُتِلُوا قَتْلًا ، ثُمَّ بَكَى فَقَالَ قَاتِلُ الزُّبَيْرِ حَتَّى فَعَلَ ذَلِكَ مِرَارًا فَقَالَ قَاتِلُ الزُّبَيْرِ : أَقْبَلَ عَلَى الزُّبَيْرِ ، فَأَقْبَلَ الزُّبَيْرُ عَلَيْهِ ، فَقَالَ : أُذَكِّرُكَ اللَّهَ ، فَكَفَّ عَنْهُ الزُّبَيْرُ حَتَّى فَعَلَ ذَلِكَ مِرَارًا ، فَقَالَ الزُّبَيْرُ : قَاتَلَهُ اللَّهُ يُذَكِّرُ بِاللَّهِ ثُمَّ يَنْسَاهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَإِسْنَادُهُ مُنْقَطِعٌ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

ابن عون بیان کرتے ہیں : یہ لوگ جو بہترین لوگ تھے ، یہ شہید کر دیے گئے ، پھر وہ رونے لگے اور انہوں نے کہا: سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کا قاتل سامنے آیا ، سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ اس کی طرف متوجہ ہوئے تو اس نے کہا: میں تمہیں اللہ کی یاد دلاتا ہوں ، تو سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ نے اس سے ہاتھ روک لیا یہاں تک کہ چند مرتبہ ایسا ہوا ، تو سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ اسے برباد کرے ، یہ اللہ کی یاد دلاتا ہے اور پھر خود بھول جاتا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند منقطع ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14842
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ منقطع
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (241)»