حدیث نمبر: 14808
وَعَنْ طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَى ، عَنْ جَدَّتِهِ سُعْدَى قَالَتْ : دَخَلَ عَلَيَّ يَوْمًا طَلْحَةُ فَرَأَيْتُ مِنْهُ ثِقَلًا ، فَقُلْتُ لَهُ : مَا لَكَ ؟ لَعَلَّهُ رَابَكَ مِنَّا شَيْءٌ فَغَيَّبَكَ ؟ قَالَ : لَا ، وَلَنِعْمَ حَلِيلَةُ الْمَرْءِ الْمُسْلِمِ أَنْتِ ، وَلَكِنِ اجْتَمَعَ عِنْدِي مَالٌ وَلَا أَدْرِي كَيْفَ أَصْنَعُ بِهِ . قَالَتْ : وَمَا يَغُمُّكَ مِنْهُ ، ادْعُ قَوْمَكَ فَاقْسِمْهُ بَيْنَهُمْ . فَقَالَ : يَا غُلَامُ ، عَلَيَّ قَوْمِي ، فَسَأَلْتُ الْخَازِنَ : كَمْ قَسَّمَ ؟ قَالَ : أَرْبَعُمِائَةِ أَلْفٍ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

طلحہ بن یحیی اپنی دادی سعدی کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : وہ فرماتی ہیں : ” ایک دن سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ گھر داخل ہوئے تو میں نے ان کی طبیعت میں بوجھل پن محسوس کیا ، میں نے ان سے دریافت کیا : آپ کو کیا ہوا ہے ؟ شاید آپ کو ہماری طرف سے کوئی چیز بری لگی ہے ، تو انہوں نے فرمایا : جی نہیں کسی بھی مسلمان کی جتنی اچھی بیوی ہو سکتی ہے تم ویسی ہو لیکن معاملہ یہ ہے کہ میرے پاس کچھ مال اکٹھا ہو گیا ہے ، اور مجھے سمجھ نہیں آ رہی کہ میں کیا کروں ، تو اس خاتون نے کہا: اس میں پریشانی والی کون سی بات ہے ؟ آپ اپنی قوم کو بلائیں اور یہ مال ان کے درمیان تقسیم کر دیں ، سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اے غلام ! میرے پاس میری قوم کے لوگوں کو لے کے آؤ ، راوی خاتون بیان کرتی ہیں : بعد میں ، میں نے خادم سے دریافت کیا : انہوں نے کتنا مال تقسیم کیا ؟ تو اس نے بتایا : چار لاکھ ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14808
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (195)»