مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابُ وَفَاتِهِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - . باب: حضرت علی رضی اللہ عنہ کی وفات کا بیان
وَعَنْ فَضَالَةَ بْنِ أَبِي فَضَالَةَ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ : خَرَجْتُ مَعَ أَبِي عَائِدًا لِعَلِيٍّ وَكَانَ مَرِيضًا ، فَقَالَ لَهُ أَبِي : مَا يُقِيمُكَ بِهَذَا الْمَنْزِلِ لَوْ هَلَكْتَ بِهِ لَمْ يَلِكَ إِلَّا أَعْرَابُ جُهَيْنَةَ ، فَلَوْ دَخَلْتَ الْمَدِينَةَ كُنْتَ بَيْنَ أَصْحَابِكَ ، فَإِنْ أَصَابَكَ مَا تَخَافُ أَوْ نَخَافُ عَلَيْكَ وَلِيَكَ أَصْحَابُكَ . وَكَانَ أَبُو فَضَالَةَ مِنْ أَهْلِ بَدْرٍ . فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ : إِنِّي لَسْتُ مَيِّتًا مِنْ مَرَضِي هَذَا - أَوْ مِنْ وَجَعِي هَذَا - إِنَّهُ عَهِدَ إِلَيَّ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِنِّي لَا أَمُوتُ حَتَّى - أَحْسَبَهُ - قَالَ : أُضْرَبُ أَوْ تُخَضَّبُ هَذِهِ مِنْ هَذِهِ - يَعْنِي ضَارِبَهُ - فَقُتِلَ أَبُو فَضَالَةَ مَعَهُ بِصِفِّينَ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَأَحْمَدُ بِنَحْوِهِ ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ . ¤فضالہ بن ابوفضالہ انصاری بیان کرتے ہیں : میں اپنے والد کے ساتھ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی عیادت کرنے کے لئے گیا ، وہ بیمار تھے ، میرے والد نے ان سے فرمایا : آپ اس جگہ پر کیوں ٹھہرے ہوئے ہیں ، اگر آپ یہاں ہلاکت کا شکار ہو گئے تو صرف جہینہ قبیلے کے دیہاتی لوگ ہی آپ کے کفن دفن کا انتظام کر سکیں گے ، اور اگر آپ شہر میں داخل ہو جائیں گے تو آپ اپنے ساتھیوں کے درمیان موجود رہیں گے ، اگر آپ کو کوئی چیز لاحق ہوئی ، جس کا آپ کو اندیشہ ہے ، یا ہمیں آپ کے حوالے سے کسی چیز کا اندیشہ ہوا تو آپ کے ساتھی آپ کی دیکھ بھال کریں گے ، راوی کہتے ہیں : سیدنا ابوفضالہ انصاری رضی اللہ عنہ اہل بدر میں سے ایک تھے ۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: میں اپنی اس بیماری کی وجہ سے نہیں مروں گا ( راوی کو شک ہے ، شاید یہ الفاظ ہیں : ) میں اپنی اس تکلیف کی وجہ سے نہیں مروں گا ، کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یہ بتایا تھا کہ میں اس وقت تک نہیں مروں گا ۔ راوی کہتے ہیں : میرا خیال ہے روایت میں یہ الفاظ ہیں : جب تک مجھے ضرب نہیں لگائی جائے گی اور یہ اس کے ذریعے رنگین نہیں ہو جائے گی ۔ راوی کہتے ہیں : سیدنا ابوفضالہ رضی اللہ عنہ جنگ صفین میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ شرکت کرتے ہوئے شہید ہوئے تھے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور امام أحمد نے اس کی مانند نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔