مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي قِتَالِهِ وَمَنْ يُقَاتِلُهُ . باب: حضرت علی رضی اللہ عنہ کا جنگ کرنا اور اس شخص کا بیان ، جو ان کے ساتھ جنگ کرے گا
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ قَالَ : لَمَّا افْتَتَحَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَكَّةَ انْصَرَفَ إِلَى الطَّائِفِ فَحَاصَرَهَا سَبْعَ عَشْرَةَ أَوْ ثَمَانِ عَشْرَةَ فَلَمْ يَفْتَتِحْهَا ، ثُمَّ أَوْغَلَ رَوْحَةً أَوْ غَدْوَةً ، ثُمَّ نَزَلَ ، ثُمَّ هَجَرَ ، فَقَالَ : " يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، إِنِّي فَرَطٌ لَكُمْ ، وَأُوصِيكُمْ بِعِتْرَتِي خَيْرًا ، وَإِنَّ مَوْعِدَكُمُ الْحَوْضُ ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَيُقِيمُوا الصَّلَاةَ ، وَلَيُؤْتُوا الزَّكَاةَ ، أَوْ لَأَبْعَثَنَّ إِلَيْهِمْ رَجُلًا مِنِّي أَوْ لِنَفْسِي فَلَيَضْرِبَنَّ أَعْنَاقَ مُقَاتِلِيهِمْ وَلَيَسْبِيَنَّ ذَرَارِيَّهُمْ " . ¤ قَالَ : فَرَأَى النَّاسُ أَنَّهُ أَبُو بَكْرٍ أَوْ عُمَرُ ، وَأَخَذَ بِيَدِ عَلِيٍّ فَقَالَ : " هَذَا هُوَ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ طَلْحَةُ بْنُ جَبْرٍ وَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ فِي رِوَايَةٍ وَضَعَّفَهُ الْجُوزَجَانِيُّ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ فتح کیا ، تو اس کے بعد آپ طائف کی طرف چلے گئے ، وہاں آپ نے سترہ دن یا شاید اٹھارہ دن تک محاصرہ کیے رکھا ، لیکن وہ شہر فتح نہیں ہوا ، پھر آپ صبح کے وقت یا شاید شام کے وقت تیزی سے روانہ ہوئے ، پھر آپ نے پڑاؤ کیا ، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اے لوگو ! بے شک میں تم لوگوں کا پیشرو ہوؤں گا ، اور بے شک میں تمہیں اپنی عترت کے بارے میں بھلائی کی تلقین کرتا ہوں ، تم سے ملنے کی جگہ حوض ہے ، اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ، وہ لوگ ( یعنی دشمن ) نماز قائم کریں گے اور زکوۃ ادا کریں گے ، یا پھر میں ان کی طرف اپنے میں سے ایک شخص کو بھیجوں گا جو ان کے جنگجو لوگوں کی گردنیں اڑا دے گا ، اور ان کے بال بچوں کو قیدی بنا لے گا ۔ “ راوی کہتے ہیں : لوگ یہ سمجھے کہ شاید سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ یا سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ہوں گے ، لیکن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑا اور ارشاد فرمایا : وہ یہ ہو گا ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی طلحہ بن جبر ہے ، جسے ایک روایت کے مطابق یحیی بن معین نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور جرجانی نے اسے ضعیف کہا: ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔