حدیث نمبر: 14723
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : كُنْتُ أَخْدِمُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَدَّمَ فَرْخًا مَشْوِيًّا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " اللَّهُمَّ ائْتِنِي بِأَحَبِّ الْخَلْقِ إِلَيْكَ وَإِلَيَّ ، يَأْكُلُ مَعِي مِنْ هَذَا الْفَرْخِ " . فَجَاءَ عَلِيٌّ وَدَقَّ الْبَابَ ، فَقَالَ أَنَسٌ : مَنْ هَذَا ؟ قَالَ : عَلِيٌّ ، فَقُلْتُ : النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى حَاجَةٍ فَانْصَرَفَ ، ثُمَّ تَنَحَّى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَكَلَ ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " اللَّهُمَّ ائْتِنِي بِأَحَبِّ الْخَلْقِ إِلَيْكَ وَإِلَيَّ ، يَأْكُلُ مَعِي مِنْ هَذَا الْفَرْخِ " . فَجَاءَ عَلِيٌّ ، فَدَقَّ الْبَابَ دَقًّا شَدِيدًا ، فَسَمِعَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " يَا أَنَسُ مَنْ هَذَا ؟ " . قُلْتُ : عَلِيٌّ . قَالَ : " أَدْخِلْهُ " . فَدَخَلَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَقَدْ سَأَلْتُ اللَّهَ ثَلَاثًا أَنْ يَأْتِيَنِي بِأَحَبِّ الْخَلْقِ إِلَيْهِ وَإِلَيَّ يَأْكُلُ مَعِي مِنْ هَذَا الْفَرْخِ " . فَقَالَ عَلِيٌّ : وَأَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ، لَقَدْ جِئْتُ ثَلَاثًا كُلُّ ذَلِكَ يَرُدُّنِي أَنَسٌ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يَا أَنَسُ ، مَا حَمَلَكَ عَلَى مَا صَنَعْتَ ؟ " . قَالَ : أَحْبَبْتُ أَنْ تُدْرِكَ الدَّعْوَةُ رَجُلًا مِنْ قَوْمِي ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا يُلَامُ الرَّجُلُ عَلَى حُبِّ قَوْمِهِ " . ¤
محمد محی الدین

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کیا کرتا تھا آپ کی خدمت میں ایک پرندے کا بھنا ہوا گوشت آیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی : اے اللہ ! تو میرے پاس اس فرد کو لے آ ! جو تیری مخلوق میں تیرے نزدیک سب سے زیادہ محبوب ہے ، تاکہ میرے ساتھ وہ اس پرندے کا گوشت کھائے ، راوی کہتے ہیں : تو اسی دوران سیدنا علی رضی اللہ عنہ آئے ، انہوں نے دروازے پر دستک دی ۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : کون ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : علی ، میں نے عرض کی : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مصروف ہیں ۔ وہ واپس چلے گئے ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھانا شروع کیا ، تو آپ نے یہ کہا: اے اللہ ! تو اپنے نزدیک اپنی مخلوق میں سے سب سے زیادہ پسندیدہ بندے کو میرے پاس لے آ ! تاکہ وہ میرے ساتھ اس پرندے کا گوشت کھائے ، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ آئے ، انہوں نے دروازہ زور سے کھٹکھٹایا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آواز سن لی ، آپ نے دریافت کیا : اے انس کون ہے ؟ میں نے عرض کی : سیدنا علی رضی اللہ عنہ آئے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اسے اندر آنے کے لئے کہو ، وہ اندر آئے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں نے تین مرتبہ اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کی : وہ میرے پاس اپنی مخلوق میں سب سے زیادہ پسندیدہ بندے کو لے آئے تاکہ وہ میرے ساتھ اس پرندے کا گوشت کھائے ، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : یا رسول اللہ ! میرا بھی یہی معاملہ ہے ، میں تین مرتبہ آیا ، ہر مرتبہ انس نے مجھے واپس کر دیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے انس تم نے جو کیا ہے ، ایسا کیوں کیا ؟ انہوں نے عرض کی : میری یہ خواہش تھی کہ آپ کی یہ دعا میری قوم سے تعلق رکھنے والے کسی فرد کو نصیب ہو ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : آدمی کو اپنی قوم سے محبت کے حوالے سے ملامت نہیں کی جا سکتی ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14723
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه أبو يعلى فى المسند (4052) أخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (730)»