مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي مَنْ يُحِبُّهُ أَيْضًا ، وَيَبْغَضُهُ [ أَوْ يَسُبُّهُ ] . باب: اس شخص کا بیان ، جو ان سے محبت رکھتا ہے ، جو ان سے بغض رکھتا ہے ، یا جو انہیں برا کہتا ہے
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : نَزَلَتْ فِي عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ : إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ سَيَجْعَلُ لَهُمُ الرَّحْمَنُ وُدًّا قَالَ : مَحَبَّةٌ فِي قُلُوبِ الْمُؤْمِنِينَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ بِشْرُ بْنُ عُمَارَةَ وَقَدْ وُثِّقَ وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ وُثِّقُوا وَلَكِنَّ الضَّحَّاكَ قِيلَ : إِنَّهُ لَمْ يَسْمَعْ مِنَ ابْنِ عَبَّاسٍ . ¤سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : یہ آیت سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ کے بارے میں نازل ہوئی تھی : ” بے شک وہ لوگ جو ایمان لائے اور انہوں نے نیک اعمال کیے ، عنقریب رحمان ان کے لئے محبت پیدا کر دے گا ۔ “ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں : اس سے مراد یہ ہے کہ اہل ایمان کے دلوں میں محبت پیدا کر دے گا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی بشر بن عمارہ ہے ، جس کی توثیق کی گئی ہے ، ایک جماعت نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ، تاہم ضحاک نامی راوی کے بارے میں یہ بات کہی گئی ہے کہ اس نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے سماع نہیں کیا ہے ۔