حدیث نمبر: 14714
وَعَنْ جُمَيْعِ بْنِ عُمَيْرٍ قَالَ : قُلْتُ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ : حَدِّثْنِي عَنْ عَلِيٍّ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ يَوْمَ خَيْبَرَ : " لَأُعْطِيَنَّ الرَّايَةَ رَجُلًا يُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ ، وَيُحِبُّهُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ " . ¤ فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ يَحْتَضِنُهَا ، وَكَانَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ أَرْمَدَ مِنْ دُخَانِ الْحِصْنِ فَدَفَعَهَا إِلَيْهِ ، فَلَا وَاللَّهِ مَا تَنَامَتِ الْخَيْلُ حَتَّى فَتَحَهَا اللَّهُ عَلَيْهِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ جُمَيْعُ بْنُ عُمَيْرٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ وَقَدْ وُثِّقَ . ¤
محمد محی الدین

جمیع بن عمیر بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے کہا: آپ مجھے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں بتائیے تو انہوں نے بتایا : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو غزوہ خیبر کے دن یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : ” میں جھنڈا ایک ایسے شخص کو دوں گا جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت رکھتا ہے ، اور اللہ اور اس کا رسول اس سے محبت رکھتے ہیں ۔ “ راوی کہتے ہیں : یہ منظر گویا آج بھی میری نگاہ میں ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس وہ جھنڈا تھا ، آپ نے اسے اپنے ساتھ لگایا ہوا تھا ، اس وقت سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ کو قلعے کے دھوئیں کی وجہ سے آشوب چشم کی شکایت تھی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ جھنڈا ان کے حوالے کیا ، تو اللہ کی قسم ! ابھی گھڑ سوار زیادہ بھی نہیں ہوئے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر قلعے کو فتح کر دیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی جمیع بن عمیر ہے ، اور وہ ضعیف ہے ، ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14714
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف