حدیث نمبر: 14713
عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ الْيَهُودَ قَتَلُوا أَخِي قَالَ : " لَأَدْفَعَنَّ الرَّايَةَ إِلَى رَجُلٍ يُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولِهِ وَيُحِبُّهُ اللَّهُ وَرَسُولِهِ ، يَفْتَحُ اللَّهُ عَلَى يَدَيْهِ ، فَيُمَكِّنُكَ مِنْ قَاتِلِ أَخِيكَ " . فَاسْتَشْرَفَ لِذَلِكَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَبَعَثَ إِلَى عَلِيٍّ فَعَقَدَ لَهُ اللِّوَاءَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي أَرْمَدُ كَمَا تَرَى - وَهُوَ يَوْمَئِذٍ رَمَدٌ - فَتَفَلَ فِي عَيْنَيْهِ فَمَا رَمَدَتْ بَعْدَ يَوْمِهِ فَمَضَى . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ أَحْمَدُ بْنُ سَهْلِ بْنِ عَلِيٍّ الْبَاهِلِيُّ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : انصار سے تعلق رکھنے والا ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! یہودیوں نے میرے بھائی کو شہید کر دیا ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میں جھنڈا ایک ایسے شخص کو دوں گا ، جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے ، اور اللہ اور اس کا رسول اس سے محبت رکھتے ہیں ، اللہ تعالیٰ اس کے ہاتھ پر فتح نصیب کر دے گا ، اور تمہیں تمہارے بھائی کے قاتل پر ق ابودیدے گا ۔ “ ( راوی بیان کرتے ہیں : ) تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب اس بات کے لئے خواہش مند رہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو پیغام بھیجا اور آپ نے ان کے لئے جھنڈا باندھا ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! جیسا کہ آپ ملاحظہ فرما رہے ہیں مجھے آشوب چشم کی شکایت ہے ، راوی کہتے ہیں : اس وقت انہیں آشوب چشم کی شکایت تھی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی آنکھوں میں لعاب دہن ڈالا تو اس کے بعد انہیں کوئی شکایت نہیں رہی ، اور پھر وہ چلے گئے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی أحمد بن سہل بن علی باہلی ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14713
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف