حدیث نمبر: 14666
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ : دَعَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْعَبَّاسَ بْنَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ، فَقَالَ : " اضْمَنْ عَنِّي دَيْنِي وَمَوَاعِيدِي " . قَالَ : لَا أُطِيقُ ذَلِكَ ، فَوَقَعَ بِهِ ابْنُهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ ، فَقَالَ : فَعَلَ اللَّهُ بِكَ مِنْ شَيْخٍ ، بِدْعُوكَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِتَقْضِيَ عَنْهُ دَيْنَهُ وَمَوَاعِيدَهُ . فَقَالَ : دَعْنِي عَنْكَ فَإِنَّ ابْنَ أَخِي يُبَارِي الرِّيحَ . فَدَعَا عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ فَقَالَ : " اضْمَنْ عَنِّي دَيْنِي وَمَوَاعِيدِي " . فَقَالَ : نَعَمْ ، هِيَ عَلَيَّ . فَضَمِنَهَا عَنْهُ . فَلَمَّا قَدِمَ عَلَى أَبِي بَكْرٍ مَالٌ قَالَ : هَذَا مَالُ اللَّهِ وَمَا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَى الْمُسْلِمِينَ فَحَقُّ مَا قَضَى عَنْ نَبِيِّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . فَدَعَا النَّاسَ ، فَقَالَ : مَنْ كَانَ لَهُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - دَيْنٌ أَوْ مَوْعُودٌ فَلْيَأْخُذْ ، وَكَانَ فِيمَنْ جَاءَ جَابِرٌ ، فَقَالَ : قَدْ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِذَا جَاءَنَا مَالٌ حَثْوَنَا لَكَ هَكَذَا وَهَكَذَا " . فَقَالَ لَهُ : خُذْ كَمَا قَالَ لَكَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَخَذَ ثَلَاثَ حَثَيَاتٍ كَمَا أَمَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . ¤ قُلْتُ : فِي الصَّحِيحِ مِنْهُ عِدَةُ جَابِرٍ بِنَحْوِهَا . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ يَحْيَى بْنِ سَلَمَةَ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کو بلایا اور فرمایا : آپ مجھے اس بات کی ضمانت دیں گے کہ میرے قرض کو ادا کر دیں اور میرے کیے ہوئے وعدوں کو پورا کریں ، تو انہوں نے کہا: میں اس کی طاقت نہیں رکھتا ، اُن کے صاحبزادے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے ان پر تنقید کی اور یہ کہا: اللہ تعالیٰ آپ کے ساتھ یہ کرے ، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو یہ کہا: ہے کہ آپ ان کی طرف سے قرض کو ادا کر دیں اور ان کے کیے ہوئے وعدوں کو پورا کریں ، تو سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: تم مجھے چھوڑ دو ! کیونکہ تمہارے چچا زاد ( سخاوت اور نفع رسانی کے حوالے سے ) ہوا کو مات دیتے ہیں ( یعنی ان کی سخاوت کی وجہ سے ان کے وعدے بہت زیادہ ہوں گے ) پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ کو بلایا اور فرمایا : تم مجھے ضمانت دو کہ قرض کو ادا کر دو گے اور میرے کیے ہوئے وعدوں کو پورا کر دو گے ، انہوں نے عرض کی : ٹھیک ہے ! یہ میرے ذمہ ہوا ، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اپنی طرف سے اس چیز کی ضمانت دی ۔ جب سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ ( کے عہد خلافت میں ) ان کے پاس مال آیا تو انہوں نے فرمایا : یہ اللہ کا مال ہے ، اور اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو مال فئے کے طور پر عطا کیا ہے ، اور یہ بات ضروری ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے ادائیگیاں کر دی جائیں ، انہوں نے لوگوں کو بلایا اور فرمایا : جس شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی قرض واپس لینا ہو یا جس کے ساتھ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وعدہ کیا ہو ، وہ وصولی کر لے تو آنے والے لوگوں میں سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بھی شامل تھے ۔ انہوں نے یہ بات بتائی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے یہ فرمایا تھا کہ جب ہمارے پاس کوئی مال آئے گا ، تو ہم تمہیں دونوں ہاتھ بھر کے دیں گے ، تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تم سے جس طرح ارشاد فرمایا تھا : تم اس طرح وصولی کر لو ، تو انہوں نے تین مرتبہ دونوں ہاتھ بھر کے مال لیا ، جس طرح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا تھا ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں صحیح میں اس روایت میں سے صرف یہ حصہ منقول ہے کہ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کے ساتھ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا جو وعدہ تھا ( اور جس طرح سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اسے پورا کیا ) ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی اسماعیل بن یحیی بن سلمہ بن کہیل ہے ، اور وہ متروک ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14666
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2554)»