حدیث نمبر: 14665
وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ : لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ : وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ قَالَ : جَمَعَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ أَهْلِ بَيْتِهِ ، فَاجْتَمَعَ لَهُ ثَلَاثُونَ رَجُلًا فَأَكَلُوا وَشَرِبُوا . قَالَ : فَقَالَ لَهُمْ : " مَنْ يَضْمَنُ عَنِّي دَيْنِي وَمَوَاعِيدِي ، وَيَكُونُ مَعِي فِي الْجَنَّةِ ، وَيَكُونُ خَلِيفَتِي فِي أَهْلِي ؟ " . فَقَالَ رَجُلٌ لَمْ يُسِمِّهِ شَرِيكٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَنْتَ كُنْتَ بَحْرًا مَنْ يَقُومُ بِهَذَا ؟ قَالَ : ثُمَّ قَالَ لِآخَرَ : فَعَرَضَ ذَلِكَ عَلَى أَهْلِ بَيْتِهِ ، فَقَالَ عَلِيٌّ : أَنَا . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَإِسْنَادُهُ جَيِّدٌ . وَقَدْ تَقَدَّمَتْ لِهَذَا الْحَدِيثِ طُرُقٌ فِي عَلَامَةِ النُّبُوَّةِ فِي آيَتِهِ فِي الطَّعَامِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب یہ آیت نازل ہوئی : ” اور تم اپنے قریبی رشتے داروں کو ڈراؤ“ ۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اہل خانہ کو جمع کیا ، تیس افراد آپ کے پاس جمع ہوئے ، ان لوگوں نے کھایا پیا ، راوی کہتے ہیں : پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں سے فرمایا : کون شخص میرے قرض اور میرے وعدوں کے حوالے سے میرا ساتھ دے گا ، اور وہ جنت میں میرے ساتھ ہو گا ، اور میرے اہل خانہ کے بارے میں میرا خلیفہ ہو گا ، تو ایک شخص نے کہا: شریک نامی راوی نے اس کا نام بیان نہیں کیا ، یا رسول اللہ ! آپ تو سمندر ہیں ، کون ایسا کر سکتا ہے ؟ پھر انہوں نے دوسری مرتبہ یہ کہا: ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اہل بیت کے سامنے یہ پیش کش رکھی تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے عرض کی : میں ایسا کروں گا ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند عمدہ ہے ۔ اس سے پہلے اس حدیث کے مختلف طرق نبوت کی علامات سے متعلق باب میں کھانے کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزات سے متعلق باب میں گزر چکے ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14665
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ جید۔
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (883)»