مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابٌ مِنْهُ فِي مَنْزِلَتِهِ وَمُؤَاخَاتِهِ . باب: حضرت علی رضی اللہ عنہ کی قدر و منزلت اور آپ کے بھائی چارے کا بیان
عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ : وَالَّذِي أَحْلِفُ بِهِ أَنْ كَانَ عَلِيٌّ لَأَقْرَبَ النَّاسِ عَهْدًا بِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . قَالَتْ : عُدْنَا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - غَدَاةً بَعْدِ غَدَاةٍ يَقُولُ : " جَاءَ عَلِيٌّ ؟ " . مِرَارًا . قَالَتْ : وَأَظُنُّهُ كَانَ بَعَثَهُ فِي حَاجَةٍ . قَالَتْ : فَجَاءَ بَعْدُ ، فَظَنَنْتُ أَنَّ لَهُ إِلَيْهِ حَاجَّةً ، فَخَرَجْنَا مِنَ الْبَيْتِ ، فَقَعَدْنَا عِنْدَ الْبَيْتِ وَكُنْتُ مِنْ أَدْنَاهُمْ إِلَى الْبَابِ ، فَأَكَبَّ عَلَيْهِ عَلِيٌّ فَجَعَلَ يُسَارُّهُ وَيُنَاجِيهِ ، ثُمَّ قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ يَوْمِهِ ذَلِكَ ، وَكَانَ أَقْرَبَ النَّاسِ بِهِ عَهْدًا . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى إِلَّا أَنَّهُ قَالَ فِيهِ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَ قُبِضَ فِي بَيْتِ عَائِشَةَ . وَالطَّبَرَانِيُّ بِاخْتِصَارٍ ، وَرِجَالُهُمْ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ أُمِّ مُوسَى ، وَهِيَ ثِقَةٌ . ¤سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : اس ذات کی قسم ! جس کے نام کا میں حلف اٹھاتی ہوں ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سب سے زیادہ قریب رہے ۔ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : ہم روزانہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی عیادت کے لئے جایا کرتی تھیں ، آپ نے فرمایا : علی آ گیا ؟ آپ نے چند مرتبہ یہ بات دریافت کی : سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں مجھے اندازہ ہو گیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں کسی کام کے سلسلے میں بھیجا ہوا ہے ۔ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : بعد میں جب وہ آئے تو مجھے اندازہ ہو گیا کہ شاید نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ان سے کوئی خاص کام ہے ، تو ہم خواتین گھر سے نکل آئیں اور گھر سے باہر بیٹھ گئیں ( یا کمرے سے باہر بیٹھ گئیں ) تو میں ان خواتین میں دروازے کے سب سے زیادہ قریب تھی ، میں نے دیکھا کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر جھک گئے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سرگوشی میں ان کے ساتھ کوئی بات چیت کی ، پھر اسی دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہو گیا ، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سب سے زیادہ قریب تھے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے اس میں یہ الفاظ نقل کیے ہیں : جس دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا ، اس دن آپ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔ اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف اُم موسیٰ نامی خاتون کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ خاتون ثقہ ہے ۔