حدیث نمبر: 14661
وَعَنْ جُمَيْعِ بْنِ عُمَيْرٍ : أَنَّ أُمَّهُ وَخَالَتَهُ دَخَلَتَا عَلَى عَائِشَةَ ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ إِلَى أَنْ قَالَ : قَالَتَا : فَأَخْبِرِينَا عَنْ عَلِيٍّ قَالَتْ : عَنْ أَيٍّ شَيْءٍ تَسْأَلَنَّ ؟ عَنْ رَجُلٍ وُضِعَ [ يَدَهُ ] مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَوْضِعًا ، فَسَالَتْ نَفْسُهُ فِي يَدِهِ فَمَسَحَ بِهَا وَجْهَهُ ؟ وَاخْتَلَفُوا فِي دَفْنِهِ ، فَقَالَ : إِنَّ أَحَبَّ الْبِقَاعِ إِلَى اللَّهِ مَكَانٌ قَبَضَ فِيهِ نَبِيَّهُ . قَالَتَا : فَلِمَ خَرَجْتِ عَلَيْهِ ؟ قَالَتْ : أَمْرٌ قُضِيَ ، وَوَدِدْتُ أَنْ أَفْدِيَهُ مَا عَلَى الْأَرْضِ مِنْ شَيْءٍ . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ جَمَاعَةٌ مُخْتَلَفٌ فِيهِمْ ، وَأُمُّ جُمَيْعٍ وَخَالَتُهُ لَمْ أَعْرِفْهُمَا . ¤
محمد محی الدین

جمیع بن عمیر بیان کرتے ہیں : ان کی والدہ اور ان کی خالہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ، جس میں آگے چل کر وہ یہ الفاظ نقل کرتے ہیں : ان دونوں خواتین نے کہا: آپ ہمیں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں بتائیں ، تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : تم کس حوالے سے سوال کر رہی ہو ؟ ایک ایسے شخص کے بارے میں جس نے اپنا ہاتھ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر یوں رکھا تھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ان کے ہاتھوں میں ہوا ، لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دفن کرنے کے بارے میں اختلاف کیا ، تو ان صاحب نے یہ کہا: اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ جگہ وہ ہوتی ہے ، جس میں اس کے نبی کی روح کو قبض کیا گیا ہو ۔ ان دونوں خواتین نے کہا: پھر آپ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے خلاف جنگ کیوں کی تھی ؟ تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : یہ تقدیر کا ایک فیصلہ تھا ، میری یہ خواہش ہے کہ میں اس کے فدیے کے طور پر روئے زمین پر موجود ہر چیز دے دوں ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں راویوں کی ایک جماعت ایسی ہے جن کے بارے میں اختلاف کیا گیا ہے ، ام جمیع اور جمیع کی خالہ ، میں ان دونوں خواتین سے واقف نہیں ہوں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14661
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (4865)»