مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابٌ مِنْهُ فِي مَنْزِلَتِهِ وَمُؤَاخَاتِهِ . باب: حضرت علی رضی اللہ عنہ کی قدر و منزلت اور آپ کے بھائی چارے کا بیان
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : لَمَّا آخَى النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَيْنَ أَصْحَابِهِ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ ، فَلَمْ يُؤَاخِ بَيْنَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - وَبَيْنَ أَحَدٍ مِنْهُمْ ، خَرَجَ عَلِيٌّ مُغْضَبًا حَتَّى أَتَى جَدْوَلًا فَتَوَسَّدَ ذِرَاعَهُ ، فَسَفَّتْ عَلَيْهِ الرِّيحُ ، فَطَلَبَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى وَجَدَهُ فَوَكَزَهُ بِرِجْلِهِ ، فَقَالَ لَهُ : " قُمْ فَمَا صَلَحْتَ أَنْ تَكُونَ إِلَّا أَبَا تُرَابٍ ، أَغَضِبْتَ عَلَيَّ حِينِ آخَيْتُ بَيْنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ وَلَمْ أُؤَاخِ بَيْنَكَ وَبَيْنَ أَحَدٍ مِنْهُمْ ؟ ! أَمَا تَرْضَى أَنْ تَكُونَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هَارُونَ مِنْ مُوسَى ؟ إِلَّا أَنَّهُ لَيْسَ بَعْدِي نَبِيٌّ . أَلَا مَنْ أَحَبَّكَ حُفَّ بِالْأَمْنِ وَالْإِيمَانِ ، وَمَنْ أَبْغَضَكَ أَمَاتَهُ اللَّهُ مِيتَةً جَاهِلِيَّةً ، وَحُوسِبَ بِعَمَلِهِ فِي الْإِسْلَامِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ حَامِدُ بْنُ آدَمَ الْمَرْوَزِيُّ ، وَهُوَ كَذَّابٌ . ¤سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مہاجرین اور انصار سے تعلق رکھنے والے اپنے اصحاب کے درمیان بھائی چارہ قائم کیا ، تو آپ نے سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ کو کسی کا بھائی قرار نہیں دیا ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ غصے کے عالم میں نکلے ، یہاں تک کہ وہ ندی کے پاس آئے اور وہاں کلائی کو تکیہ بنا کر لیٹ گئے ، ہوا چلنے کی وجہ سے وہ گردوغبار میں اٹ گئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں تلاش کرتے ہوئے آئے ، یہاں تک کہ آپ نے انہیں پایا اور آپ نے انہیں پاؤں مارا اور فرمایا : تم اٹھ جاؤ ! تمہارے لئے موزوں ( نام ) یہی ہے کہ تم ابوتراب ہو ، کیا تم اس بات پر غصے میں ہو کہ میں نے جب مہاجرین اور انصار کے درمیان بھائی چارہ قائم کیا ، تو میں نے تمہارے اور کسی فرد کے درمیان بھائی چارہ قائم نہیں کیا ؟ کیا تم اس بات سے راضی نہیں ہو کہ تمہاری مجھ سے وہی نسبت ہو جو سیدنا ہارون علیہ السلام کی سیدنا موسیٰ علیہ السلام سے تھی ، البتہ یہ ہے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہو گا ، جو شخص تم سے محبت رکھے گا ، وہ امن اور ایمان سے بھر دیا جائے گا ، اور جو شخص تم سے بغض رکھے گا اللہ تعالیٰ اسے زمانہ جاہلیت کی موت دے گا ، اور اسلام میں اس نے جو عمل کیا ہے اس سے حساب لیا جائے گا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حامد بن آدم مروزی ہے ، اور وہ کذاب ہے ۔