مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابُ مَنْزِلَتِهِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ . باب: حضرت علی رضی اللہ عنہ کی قدر و منزلت کا بیان
عَنْ عَلِيٍّ قَالَ : وَجِعْتُ وَجَعًا ، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَقَامَنِي فِي مَكَانِهِ ، وَقَامَ يُصَلِّي وَأَلْقَى عَلَيَّ طَرَفَ ثَوْبِهِ ، ثُمَّ قَالَ : " قَدْ بَرِئْتَ يَا ابْنَ أَبِي طَالِبٍ ، لَا بَأْسَ عَلَيْكَ . مَا سَأَلْتُ اللَّهَ شَيْئًا إِلَّا سَأَلْتُ لَكَ مِثْلَهُ ، وَلَا سَأَلْتُ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - شَيْئًا إِلَّا أَعْطَانِيهِ غَيْرَ أَنَّهُ قِيلَ لِي : لَا نَبِيَّ بَعْدَكَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مَنِ اخْتُلِفَ فِيهِمْ . ¤سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : مجھے تکلیف لاحق ہوئی ، میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اپنے پاس کھڑا کیا اور پھر آپ کھڑے ہو کر نماز ادا کرنے لگے ، آپ نے اپنے کپڑے کا ایک حصہ مجھ پر ڈال دیا ، پھر آپ نے ارشاد فرمایا : ” اے ابن ابوطالب تم ٹھیک ہو گئے ہو تم پر کوئی حرج نہیں ہے ، میں نے اللہ تعالیٰ سے جو بھی چیز مانگی ، تمہارے لئے بھی اس کی مانند چیز مانگی اور میں نے اللہ تعالیٰ سے جو بھی چیز مانگی وہ اس نے مجھے عطا کر دی ، البتہ مجھے یہ کہا: گیا کہ آپ کے بعد کوئی نبی نہیں ہو گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایسے راوی ہیں جن کے بارے میں اختلاف کیا گیا ہے ۔