حدیث نمبر: 14648
وَعَنْ عَلِيٍّ : أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَرَادَ غَزْوًا ، فَدَعَا جَعْفَرًا فَأَمَرَهُ أَنْ يَتَخَلَّفَ عَلَى الْمَدِينَةِ ، فَقَالَ : لَا أَتَخَلَّفُ بَعْدَكَ أَبَدًا ، فَأَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَدَعَانِي ، فَعَزَمَ عَلَيَّ لَمَا تَخَلَّفْتُ قَبْلَ أَنْ أَتَكَلَّمَ فَبَكَيْتُ قَالَ : " مَا يُبْكِيكَ ؟ " . قُلْتُ : يُبْكِينِي خِصَالٌ غَيْرَ وَاحِدَةٍ ، تَقُولُ قُرَيْشٌ غَدًا : مَا أَسْرَعَ مَا تَخَلَّفَ عَنِ ابْنِ عَمِّهِ وَخَذَلَهُ . ¤ وَتُبْكِينِي خَصْلَةٌ أُخْرَى : كُنْتُ أُرِيدُ أَنْ أَتَعَرَّضَ لِلْجِهَادِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ; لِأَنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - يَقُولُ : ( وَلَا يَطَئُونَ مَوْطِئًا يَغِيظُ الْكُفَّارَ وَلَا يَنَالُونَ مِنْ عَدُوٍّ نَيْلًا إِلَّا كُتِبَ لَهُمْ بِهِ عَمَلٌ صَالِحٌ إِنَّ اللَّهَ لَا يُضِيعُ أَجْرَ الْمُحْسِنِينَ ) فَكُنْتُ أُرِيدُ أَنْ أَتَعَرَّضَ لِلْأَجْرِ . وَتُبْكِينِي خَصْلَةٌ أُخْرَى : كُنْتُ أُرِيدُ أَنْ أَتَعَرَّضَ لِفَضْلِ اللَّهِ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَمَّا قَوْلُكَ : تَقُولُ قُرَيْشٌ : مَا أَسْرَعَ مَا تَخَلَّفَ عَنِ ابْنِ عَمِّهِ وَخَذَلَهُ ; فَإِنَّ لَكَ بِي أُسْوَةً ، قَدْ قَالُوا : سَاحِرٌ وَكَاهِنٌ وَكَذَّابٌ . وَأَمَّا قَوْلُكَ : أَتَعَرَّضُ لِلْأَجْرِ مِنَ اللَّهِ ; أَمَا تَرْضَى أَنْ تَكُونَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هَارُونَ مِنْ مُوسَى ؟ إِلَّا أَنَّهُ لَا نَبِيَّ بَعْدِي ، وَأَمَّا قَوْلُكَ : أَتَعَرَّضُ لِفَضْلِ اللَّهِ ; فَهَذَانِ بَهَارَانِ مِنْ فُلْفُلٍ جَاءَنَا مِنَ الْيَمَنِ ، فَبِعْهُ وَاسْتَمْتِعْ بِهِ أَنْتَ وَفَاطِمَةُ حَتَّى يَأْتِيَكُمَا اللَّهُ مِنْ فَضْلِهِ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ حَكِيمُ بْنُ جُبَيْرٍ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ میں شرکت کا ارادہ کیا ، تو آپ نے سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ کو بلایا اور انہیں یہ حکم دیا کہ وہ مدینہ منورہ میں آپ کے نائب کے طور پر رہیں ، تو انہوں نے عرض کی : میں آپ سے پیچھے کبھی نہیں رہوں گا ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پیغام بھیج کر مجھے بلایا اور میرے ساتھ کوئی بات کرنے سے پہلے تاکید کی کہ میں آپ کی جگہ پیچھے رہوں ، تو میں رو پڑا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : تم کیوں رو رہے ہو ؟ میں نے عرض کی : مجھے ایک سے زیادہ باتوں کی وجہ سے رونا آ رہا ہے ، کل کو قریش یہ کہیں گے کہ اس نے اپنے چچازاد کو کتنی جلدی چھوڑ دیا اور خود پیچھے رہ گیا ، اور انہیں رسوائی کا شکار کر دیا ، ایک اور بات مجھے رونے پر مجبور کر رہی ہے کہ میں یہ چاہتا تھا کہ خود کو اللہ کی راہ میں جہاد کے لئے پیش کروں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے یہ ارشاد فرمایا ہے : ” انہوں نے جس بھی ایسی جگہ پر قدم رکھا کہ جس کے ذریعے وہ کفار کو غیظ و غضب کا شکار کریں ، اور انہوں نے دشمن کو جو بھی نقصان پہنچایا ، تو اس کے بدلے میں ان کے لیے نیک عمل نوٹ کیا جاتا ہے ، بیشک اللہ تعالیٰ نیکی کرنے والوں کے اجر کو ضائع نہیں کرتا ہے ۔ “ تو میں یہ چاہتا تھا کہ خود کو اجر کے لئے پیش کروں اور ایک اور بات بھی مجھے رلا رہی ہے کہ میں یہ چاہتا تھا کہ میں اللہ تعالیٰ کا فضل حاصل کرنے کی کوشش کروں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جہاں تک تمہاری اس بات کا تعلق ہے کہ قریش یہ کہیں گے کہ یہ اپنے چچازاد سے کتنی جلدی پیچھے رہ گیا ، اور اس نے انہیں رسوا کر دیا ، تو تمہارے لئے میری ذات میں نمونہ ہے ۔ انہوں نے ( مجھے بھی تو ) یہ کہا: ہے کہ یہ جادوگر ہیں ۔ یہ کاہن ہیں ۔ یہ کذاب ہیں ، جہاں تک تمہاری اس بات کا تعلق ہے کہ میں اللہ کی طرف سے ملنے والا اجر حاصل کرنا چاہتا ہوں تو کیا تم اس بات سے راضی نہیں ہو کہ تمہاری مجھ سے وہ نسبت ہو جو سیدنا ہارون علیہ السلام کی سیدنا موسیٰ علیہ السلام سے تھی ، البتہ یہ ہے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہو گا ، جہاں تک تمہاری اس بات کا تعلق ہے کہ میں اللہ کا فضل حاصل کرنا چاہتا ہوں ، تو یہ اناج کے دو اونٹوں کے وزن جتنا سامان ہے ، جو یمن سے ہمارے پاس آیا ہے ، تم اسے فروخت کر کے اس سے نفع حاصل کرو ، تم اور فاطمہ اسے استعمال کرو یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ تم دونوں کے پاس اپنے فضل میں سے مزید کوئی چیز لے آئے گا ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حکیم بن جبیر ہے ، اور وہ متروک ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14648
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2527)»