مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الطهارة— طہارت کے بارے میں روایات
بَابُ التَّسَتُّرِ عِنْدَ الِاغْتِسَالِ وَالنَّهْيِ عَنِ الِاغْتِسَالِ بِالْفَضَاءِ . باب: غسل کرتے ہوئے پردہ کر لینا اور کھلی جگہ پر غسل کرنے کی ممانعت
حدیث نمبر: 1455
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " تَعَرِّ الْمَرْءُ عِنْدَ أَرْبَعَةِ خِصَالٍ : إِذَا نَامَ مُسْتَلْقِيًا ، وَإِذَا نَامَ وَحْدَهُ ، وَإِذَا نَامَ فِي مِلْحَفَةٍ مُعَصْفَرَةٍ ، وَإِذَا اغْتَسَلَ بِفَضَاءٍ مِنَ الْأَرْضِ ، فَمَنِ اسْتَطَاعَ أَنْ لَا يَغْتَسِلَ بِفَضَاءٍ مِنَ الْأَرْضِ ، فَإِنْ كَانَ لَا بُدَّ فَاعِلًا فَلْيَخُطَّ خَطًّا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مَرْوَانُ بْنُ سَالِمٍ ، وَهُوَ مُنْكَرُ الْحَدِيثِ . ¤محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” آدمی چار صورتوں میں عاری ( یعنی فرشتوں سے الگ ہو جاتا ہے ) جب وہ چیت لیٹ کر سو جائے ، جب وہ اکیلا ہو جائے ، جب وہ معصفر لحاف میں سو جائے ، یا جب وہ کھلی جگہ پر غسل کرے ، جو شخص استطاعت رکھتا ہو ، وہ کھلی جگہ پر غسل نہ کرے ، اگر اس نے ضرور ایسا کرنا ہو ، تو وہ زمین پر لکیر لگا لے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مروان بن سالم ہے اور وہ منکر الحدیث ہے ۔