❮
❯
حدیث نمبر: 14530
عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذْ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَصَافَحَهُ ، فَلَمْ يَنْزِعِ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَدَهُ مِنْ يَدِ الرَّجُلِ حَتَّى انْتَزَعَ الرَّجُلُ يَدَهُ ، ثُمَّ قَالَ لَهُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، جَاءَ عُثْمَانُ قَالَ : " امْرُؤٌ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ " .
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ .
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا اسی دوران ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے ساتھ مصافحہ کیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کے ہاتھ سے اپنا ہاتھ خود پیچھے نہیں کیا ، یہاں تک کہ اس شخص نے خود ہی اپنا ہاتھ پیچھے کیا ، پھر اس شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی : یا رسول اللہ ! سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ آئے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : وہ اہل جنت سے تعلق رکھنے والا ایک فرد ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14530
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط (302) ، أخرجه المعجم الكبير للطبراني برقم: 13495، وأخرجه المعجم الأوسط للطبراني برقم: 302»