مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابُ مُوَالَاتِهِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - . باب: ان کی موالات کا بیان
وَعَنْ عُبَيْدٍ الْحِمْيَرِيِّ قَالَ : كُنْتُ عِنْدَ عُثْمَانَ حِينَ حُوصِرَ ، فَقَالَ : هَاهُنَا طَلْحَةُ ؟ فَقَالَ طَلْحَةُ - رَحِمَهُ اللَّهُ - : نَعَمْ قَالَ اسْتَقِمْ . فَقَالَ : نَشَدْتُكَ اللَّهَ أَمَا عَلِمْتَ أَنَّا كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " لِيَأْخُذْ كُلُّ رَجُلٍ مِنْكُمْ بِيَدِ جَلِيسِهِ " . فَأَخَذْتَ بِيَدِ فُلَانٍ ، وَأَخَذَ فُلَانٌ بِيَدِ فُلَانٍ ، حَتَّى أَخَذَ كُلُّ رَجُلٍ بِيَدِ صَاحِبِهِ ، وَأَخَذَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِيَدِي وَقَالَ : " هَذَا جَلِيسِي فِي الدُّنْيَا وَوَلِيِّي فِي الْآخِرَةِ " . فَقَالَ : اللَّهُمَّ نَعَمْ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ خَارِجَةُ بْنُ مُصْعَبٍ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ ، قِيلَ فِيهِ : كَذَّابٌ ، وَقِيلَ فِيهِ : مُسْتَقِيمُ الْحَدِيثِ ، وَقَدْ ضَعَّفَهُ الْأَئِمَّةُ أَحْمَدُ وَغَيْرُهُ . ¤عبید حمیری بیان کرتے ہیں : میں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس موجود تھا ، یہ اس وقت کی بات ہے جب ان کا محاصرہ کیا جا چکا تھا ۔ انہوں نے دریافت کیا : کیا یہاں طلحہ موجود ہیں ؟ سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ بولے : جی ہاں ! سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا: آپ اٹھ جائیں ، پھر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا: میں آپ کو اللہ کا واسطہ دے کر یہ بات دریافت کرتا ہوں کہ کیا آپ لوگ یہ بات نہیں جانتے کہ ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم میں سے ہر ایک شخص اپنے ساتھ والے کا ہاتھ پکڑ لے ، تو تم نے فلاں شخص کا ہاتھ پکڑا تھا ، فلاں نے فلاں کا ہاتھ پکڑا تھا ، یہاں تک کہ ہر فرد نے اپنے ساتھ والے کا ہاتھ پکڑ لیا تھا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑ کر ارشاد فرمایا تھا : یہ دنیا میں میرا ہمنشین ہے ، اور آخرت میں میرا ساتھی ہو گا ، تو سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا : اللہ جانتا ہے ، جی ہاں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی خارجہ بن مصعب ہے ، اور وہ متروک ہے ، اس کے بارے میں یہ کہا: گیا ہے کہ وہ کذاب ہے ، اور ایک قول اس کے بارے میں یہ ہے کہ وہ مستقیم الحدیث ہے ، ائمہ جیسے امام أحمد اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔