حدیث نمبر: 14527
وَفِي رِوَايَةٍ : وَهُوَ مَسْنِدٌ ظَهْرَهُ إِلَيَّ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : عَنْ أُمِّ كُلْثُومٍ بِنْتِ ثُمَامَةَ الْحِنْطِيِّ إِنَّ أَخَاهَا الْمُخَارِقَ بْنَ ثُمَامَةَ الْحِنْطِيَّ قَالَ لَهَا : ادْخُلِي عَلَى عَائِشَةَ فَأَقْرِئِيهَا مِنِّي السَّلَامَ ، فَدَخَلَتْ عَلَيْهَا فَقَالَتْ : إِنَّ بَعْضَ بَنِيكِ يُقْرِئُكِ السَّلَامَ قَالَتْ عَائِشَةُ : وَعَلَيْهِ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ ، قَلَّتْ : وَيَسْأَلُكِ أَنْ تُحَدِّثِيهِ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ ، فَإِنَّ النَّاسَ قَدْ أَكْثَرُوا فِيهِ عِنْدَنَا حِينَ قُتِلَ . قَالَتْ : أَمَّا أَنَا فَأَشْهَدُ أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ فِي هَذَا الْبَيْتِ ، وَنَبِيُّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَجِبْرِيلُ جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي لَيْلَةٍ قَائِظَةٍ ، وَكَانَ إِذَا نَزَلَ عَلَيْهِ الْوَحْيُ يَنْزِلُ عَلَيْهِ ثَقْلَةٌ ، يَقُولُ اللَّهُ - جَلَّ ذِكْرُهُ - : ( إِنَّا سَنُلْقِي عَلَيْكَ قَوْلًا ثَقِيلًا ) فَذَكَرَ نَحْوَهُ . وَأُمُّ كُلْثُومٍ لَمْ أَعْرِفْهَا ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِ الطَّبَرَانِيِّ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے ساتھ ٹیک لگائی ہوئی تھی ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ام کلثوم بنت ثمامہ حنطی بیان کرتی ہیں : ان کے بھائی مخارق بن ثمامہ حنفی نے ان سے کہا: تم سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس جاؤ ، انہیں میری طرف سے سلام کہنا ، میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئی اور یہ کہا: آپ کے ایک بیٹے نے آپ کو سلام بھیجا ہے ۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : اس پر بھی سلام ہو ، اللہ تعالیٰ کی رحمتیں اور اس کی برکتیں نازل ہوں ۔ میں نے کہا: وہ آپ سے یہ پوچھنا چاہ رہا تھا کہ آپ اس کو سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے بارے میں بتائیں کیونکہ لوگ ان کے خلاف بہت باتیں کر رہے ہیں ، جب انہیں شہید کر دیا گیا ، تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : جہاں تک میری بات ہے ، تو میں اس بات کی گواہی دیتی ہوں کہ سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ اسی گھر میں موجود تھے اللہ کے نبی موجود تھے ۔ سیدنا جبرائیل موجود تھے ، وہ ایک سرد رات میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہوتی تھی ، تو وہ آپ کے لئے شدت کا باعث ہوتی تھی کیونکہ اللہ تعالیٰ نے یہ ارشاد فرمایا ہے : ” ہم ایک بھاری قول تمہاری طرف القاء کریں گے ۔ “ اس کے بعد راوی نے حسب سابق حدیث ذکر کی ہے ، اُم کلثوم نامی خاتون راوی سے میں واقف نہیں ہوں ، طبرانی کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14527
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (250/6)»