مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابُ كِتَابَتِهِ الْوَحْيَ . باب: حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا وحی کی کتابت کرنا
عَنْ عُمَرَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الْيَشْكُرِيِّ قَالَ : سَمِعْتُ أُمِّي تُحَدِّثُ أَنَّ أُمَّهَا انْطَلَقَتْ إِلَى الْبَيْتِ حَاجَّةً ، وَالْبَيْتُ يَوْمَئِذٍ لَهُ بَابَانِ قَالَتْ : فَلَمَّا قَضَيْتُ طَوَافِي دَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ . قَالَتْ : فَقُلْتُ لَهَا : يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ ، إِنَّ بَعْضَ بَنِيكِ بَعَثَ يُقْرِئُكِ السَّلَامَ ، وَإِنَّ النَّاسَ قَدْ أَكْثَرُوا فِي عُثْمَانَ فَمَا تَقُولِينَ فِيهِ ؟ فَقَالَتْ : لَعَنَ اللَّهُ مَنْ لَعَنَهُ ، لَعَنَ اللَّهُ مَنْ لَعَنَهُ - لَا أَحْسَبُهَا إِلَّا قَالَتْ : ثَلَاثَ مَرَّاتٍ - لَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ مُسْنِدٌ فَخِذَهُ إِلَى عُثْمَانَ ، وَإِنِّي لَأَمْسَحُ الْعَرَقَ عَنْ جَبِينِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَإِنَّ الْوَحْيَ يَنْزِلُ عَلَيْهِ ، وَلَقَدْ زَوَّجَهُ ابْنَتَيْهِ إِحْدَاهُمَا بَعْدَ الْأُخْرَى ، وَإِنَّهُ لَيَقُولُ : " اكْتُبْ عُثَيْمُ " . قَالَتْ : مَا كَانَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - لِيُنْزِلَ عَبْدًا مِنْ نَبِيِّهِ بِتِلْكَ الْمَنْزِلَةِ إِلَّا عَبْدًا كَرِيمًا عَلَيْهِ . ¤عمر بن ابراهیم یشکری بیان کرتے ہیں : میں نے اپنی والدہ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ، ان کی والدہ کسی کام کے سلسلے میں بیت اللہ کے اندر گئیں ، بیت اللہ کے ان دنوں دو دروازے ہوتے تھے ، وہ خاتون بیان کرتی ہیں : جب میں نے اپنا طواف مکمل کیا ، تو میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئی ، وہ خاتون کہتی ہیں : میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا : اے ام المومنین ! آپ کے ایک بیٹے نے آپ کو سلام بھیجا ہے ، لوگ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے بہت خلاف ہو چکے ہیں ، تو آپ ان کے بارے میں کیا کہتی ہیں ؟ تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : جو شخص ان پر لعنت کرتا ہے اس پر اللہ تعالیٰ لعنت کرے ، جو ان پر لعنت کرتا ہے ، اللہ تعالیٰ اس پر لعنت کرے ، میرا خیال ہے تین مرتبہ انہوں نے یہ کلمات کہے ، اور پھر یہ بات بیان کی کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو دیکھا کہ آپ نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے ساتھ زانوں لگا کر ٹیک لگائی ہوئی تھی اور میں نبی اکرم ﷺ کی پیشانی سے پسینہ پونچھ رہی تھی اور نبی اکرم ﷺ پر وحی نازل ہو رہی تھی ، نبی اکرم ﷺ نے اپنی دو صاحبزادیوں کی شادیاں یکے بعد دیگرے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے ساتھ کیں ، نبی اکرم ﷺ نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے فرمایا : اے عثیم تم لکھو ! سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : اللہ تعالیٰ کسی بندے کو اپنے نبی کے اتنا قریب اسی وقت کر سکتا ہے جب وہ بندہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک معزز ہو ۔