مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابُ إِعَانَتِهِ فِي جَيْشِ الْعُسْرَةِ وَغَيْرِهِ . باب: حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کا جیش عسرت ، وغیرہ کی مدد کرنا
وَعَنْ أَبِي مَسْعُودٍ قَالَ : كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي غَزَاةٍ ، فَأَصَابَ النَّاسَ جَهْدٌ حَتَّى رَأَيْتُ الْكَآبَةَ فِي وُجُوهِ الْمُسْلِمِينَ ، وَالْفَرَحَ فِي وُجُوهِ الْمُنَافِقِينَ ، فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " وَاللَّهِ لَا تَغِيبُ الشَّمْسُ حَتَّى يَأْتِيَكُمُ اللَّهُ بِرِزْقٍ " . فَعَلِمَ عُثْمَانُ أَنَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ سَيَصْدُقَانِ ، فَاشْتَرَى عُثْمَانُ أَرْبَعَ عَشْرَةَ رَاحِلَةً بِمَا عَلَيْهَا مِنَ الطَّعَامِ ، فَوَجَّهَ إِلَى النَّبِيِّ مِنْهَا بِتِسْعَةٍ ، فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَا هَذَا ؟ " . قَالَ : أَهْدَى إِلَيْكَ عُثْمَانُ ، فَعُرِفَ الْفَرَحُ فِي وَجْهِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَالْكَآبَةُ فِي وُجُوهِ الْمُنَافِقِينَ ، فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَدْ رَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى رُئِيَ بَيَاضُ إِبْطَيْهِ يَدْعُو لِعُثْمَانَ دُعَاءً مَا سَمِعْتُهُ دَعَا لِأَحَدٍ قَبْلَهُ وَلَا بَعْدَهُ : اللَّهُمَّ أَعْطِ عُثْمَانَ اللَّهُمَّ افْعَلْ بِعُثْمَانَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْوَرَّاقُ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤ وَرَوَاهُ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ رُؤْيَا رَآهَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - وَتَأْتِي إِنْ شَاءَ اللَّهُ . ¤سیدنا ابومسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک غزوہ میں شریک ہوئے ، لوگوں کو بھوک لاحق ہوئی ، یہاں تک کہ میں نے مسلمانوں کے چہروں پر پریشانی کے آثار دیکھے اور منافقین کے چہروں پر خوشی کے آثار دیکھے ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ صورت حال ملاحظہ کی ، تو آپ نے ارشاد فرمایا : اللہ کی قسم ! سورج غروب ہونے سے پہلے اللہ تعالیٰ تمہارے پاس رزق بھیج دے گا ۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ یہ بات جانتے تھے کہ اللہ اور اس کا رسول سچ فرماتے ہیں ، تو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے چودہ اونٹنیاں خریدیں اور وہ ان پر موجود اناج سمیت خریدیں ، پھر ان میں سے نو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف بھجوا دیں ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ملاحظہ کیا ، تو دریافت کیا : یہ کہاں سے آئی ہیں ؟ تو اس شخص نے بتایا : سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے آپ کو تحفہ بھیجا ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے پر خوشی کے آثار نمایاں ہوئے اور منافقین کے چہروں پر پریشانی ظاہر ہوئی ، تو میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے اپنے دونوں ہاتھ بلند کیے ، یہاں تک کہ آپ کی بغلوں کی سفیدی نظر آنے لگی ، آپ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے لئے دعا کر رہے تھے ، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس سے پہلے اور اس کے بعد یہ دعا کرتے ہوئے نہیں دیکھا ، آپ یہ کہہ رہے تھے : ” اے اللہ ! تو عثمان کو عطا فرما ۔ اے اللہ ! تو عثمان کے ساتھ یہ کر دے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی سعید بن محمد وراق ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔ یہ انہوں نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس میں ایک خواب ہے ، جو امام حسن بن علی رضی اللہ عنہما نے دیکھا تھا ، اس کا ذکر آگے چل کے آئے گا ، اگر اللہ نے چاہا ۔