حدیث نمبر: 14524
عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِصَاحِبِ الْبُقْعَةِ الَّتِي زِيدَتْ فِي مَسْجِدِ الْمَدِينَةِ وَكَانَ صَاحِبُهَا مِنَ الْأَنْصَارِ ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَكَ بِهَا بَيْتٌ فِي الْجَنَّةِ " . فَقَالَ : لَا . فَجَاءَ عُثْمَانُ ، فَقَالَ لَهُ : لَكَ بِهَا عَشَرَةُ آلَافِ دِرْهَمٍ ، فَاشْتَرَاهَا مِنْهُ ، ثُمَّ جَاءَ عُثْمَانُ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، اشْتَرِ مِنِّي الْبُقْعَةَ الَّتِي اشْتَرَيْتُهَا مِنَ الْأَنْصَارِيِّ ، فَاشْتَرَاهَا مِنْهُ بِبَيْتٍ فِي الْجَنَّةِ . فَقَالَ عُثْمَانُ : فَإِنِّي اشْتَرَيْتُهَا بِعَشَرَةِ آلَافِ دِرْهَمٍ ، فَوَضَعَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَبِنَةً ، ثُمَّ دَعَا أَبَا بَكْرٍ فَوَضَعَ لَبِنَةً ، ثُمَّ دَعَا عُمَرَ فَوَضَعَ لَبِنَةً ، ثُمَّ جَاءَ عُثْمَانُ فَوَضَعَ لَبِنَةً ، ثُمَّ قَالَ لِلنَّاسِ : " ضَعُوا " . فَوَضَعُوا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ زِيَادُ بْنُ أَبِي الْمَلِيحِ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین

ابوملیح اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : مسجد نبوی میں اضافے کے لئے جس زمین کی ضرورت تھی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین کے مالک سے بات چیت کی ، اس زمین کا مالک انصار سے تعلق رکھنے والا ایک شخص تھا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تمہیں اس کے بدلے میں جنت میں ایک گھر مل جائے گا ، اس نے کہا: جی نہیں ، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ آئے ، انہوں نے اس سے کہا: تمہیں اس زمین کے بدلے میں دس ہزار درہم دیے جاتے ہیں ، تو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے اس شخص سے وہ زمین خریدی ، پھر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ مجھ سے وہ ٹکڑا خرید لیں ، میں نے انصاری سے وہ خرید لیا ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جنت میں موجود ایک گھر کے بدلے میں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے وہ ٹکڑا خرید لیا ، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے عرض کی : میں نے اسے دس ہزار درہم کے عوض میں خریدا ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک اینٹ رکھی ، پھر آپ نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو بلایا ، انہوں نے ایک اینٹ رکھی ، پھر آپ نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو بلایا ، انہوں نے ایک اینٹ رکھی ، پھر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ آئے ، انہوں نے ایک اینٹ رکھی ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے فرمایا : اب تم لوگ رکھو ! تو لوگوں نے بھی اینٹیں رکھیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی زیاد بن ابوملیح ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14524
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (521)»