حدیث نمبر: 14503
عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ عُمَرَ قَالَتْ : دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ذَاتَ يَوْمٍ ، فَوَضَعَ ثَوْبَهُ بَيْنَ فَخِذَيْهِ ، فَجَاءَ أَبُو بَكْرٍ فَاسْتَأْذَنَ ، فَأَذِنَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى هَيْئَتِهِ ، ثُمَّ جَاءَ عُمَرُ يَسْتَأْذِنُ ، فَأَذِنَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى هَيْئَتِهِ ، وَجَاءَ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِهِ فَأَذِنَ لَهُمْ ، وَجَاءَ عَلِيٌّ ، فَأَذِنَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى هَيْئَتِهِ ، ثُمَّ جَاءَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ فَاسْتَأْذَنَ ، فَتَجَلَّلَ ثَوْبَهُ فَأَذِنَ لَهُ ، فَتَحَدَّثُوا سَاعَةً ، ثُمَّ خَرَجُوا فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، دَخَلَ أَبُو بَكْرٍ ، وَعُمَرُ وَعَلِيٌّ ، وَنَاسٌ مِنْ أَصْحَابِكَ ، وَأَنْتَ عَلَى هَيْئَتِكَ لَمْ تُحَرِّكْ ، فَلَمَّا دَخَلَ عُثْمَانُ تَجَلَّلْتَ ثَوْبَكَ ؟ قَالَ : " أَلَا أَسْتَحْيِي مِمَّنْ تَسْتَحْيِي مِنْهُ الْمَلَائِكَةُ ! " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَأَبُو يَعْلَى بِاخْتِصَارٍ كَثِيرٍ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدہ حفصہ بنت عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتی ہیں : ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے ہاں تشریف لائے ، آپ نے زانوں سے کپڑا ہٹا دیا ۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ آئے انہوں نے اندر آنے کی اجازت مانگی ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اجازت عطا کی اور اسی حالت میں رہے ، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ آئے ، انہوں نے اجازت مانگی ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اجازت دی اور اسی حالت میں رہے ، پھر آپ کے اصحاب سے تعلق رکھنے والے کچھ اور افراد بھی آئے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اجازت دی ، پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ آئے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں انہیں اجازت دی اور آپ اسی حالت میں رہے ، پھر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ آئے ، انہوں نے اجازت مانگی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے کپڑے کو زانوں پر ڈال کر پھر انہیں اجازت دی ، یہ لوگ کچھ دیر بات چیت کرتے رہے ، پھر تشریف لے گئے ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! سیدنا ابوبکر ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہما اور آپ کے کچھ اور اصحاب آئے ، لیکن آپ اسی ہیئت میں رہے ، آپ نے کوئی حرکت نہیں کی ، لیکن جب سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ اندر آنے لگے ، تو آپ نے اپنے کپڑے کے ذریعے زانوں کو ڈھانپ لیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کیا میں اس شخص سے حیا نہ کروں جس سے فرشتے بھی حیا کرتے ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے ، امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، امام ابویعلیٰ نے اسے بہت زیادہ اختصار کے ساتھ نقل کیا ہے اس کی سند حسن ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14503
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔