حدیث نمبر: 14441
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : نَظَرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ذَاتَ يَوْمٍ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ وَتَبَسَّمَ إِلَيْهِ ، فَقَالَ : " يَا ابْنَ الْخَطَّابِ ، مِمَّا تَبَسَّمْتُ إِلَيْكَ ؟ " . قَالَ : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ . قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - بَاهَى بِأَهْلِ عَرَفَةَ عَامَّةً ، وَبَاهَى بِكَ خَاصَّةً " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ رِشْدِينُ بْنُ سَعْدٍ ، وَهُوَ مُخْتَلَفٌ فِي الِاحْتِجَاجِ بِهِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی طرف دیکھا ، آپ نے انہیں مسکرا کے دیکھا اور ارشاد فرمایا : ” اے ابن خطاب ! کیا تم جانتے ہو ؟ میں نے تمہاری طرف مسکرا کے کیوں دیکھا ہے ؟ انہوں نے عرض کی : اللہ اور اس کا رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” عرفہ کی رات اللہ تعالیٰ نے اہل عرفہ کے حوالے سے فرشتوں کے سامنے عمومی طور پر فخر کا اظہار کیا اور تمہارے حوالے سے بطور خاص فخر کا اظہار کیا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی رشدین بن سعد ہے ، اور اس سے استدلال کرنے کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14441
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (11430)»