مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابُ مَنْزِلَةِ عُمَرَ عِنْدَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . باب: اللہ اور اس کے رسول کی بارگاہ میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی قدر و منزلت کا بیان
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : نَظَرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ذَاتَ يَوْمٍ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ وَتَبَسَّمَ إِلَيْهِ ، فَقَالَ : " يَا ابْنَ الْخَطَّابِ ، مِمَّا تَبَسَّمْتُ إِلَيْكَ ؟ " . قَالَ : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ . قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - بَاهَى بِأَهْلِ عَرَفَةَ عَامَّةً ، وَبَاهَى بِكَ خَاصَّةً " .
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ رِشْدِينُ بْنُ سَعْدٍ ، وَهُوَ مُخْتَلَفٌ فِي الِاحْتِجَاجِ بِهِ .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی طرف دیکھا ، آپ نے انہیں مسکرا کے دیکھا اور ارشاد فرمایا : ” اے ابن خطاب ! میں نے تمہاری طرف مسکرا کے کیوں دیکھا ہے ؟ “ انہوں نے عرض کی : اللہ اور اس کا رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اللہ تعالیٰ نے اہل عرفہ کے حوالے سے عمومی طور پر فخر کا اظہار کیا اور تمہارے حوالے سے بطور خاص فخر کا اظہار کیا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی رشدین بن سعد ہے ، اور اس سے استدلال کرنے کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔