مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابُ شِدَّتِهِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - فِي اللَّهِ وَكَرَاهِيَتِهِ لِلْبَاطِلِ . باب: اللہ تعالیٰ کے بارے میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی شدت اور ان کا باطل کو ناپسند کرنا
وَعَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ سَرِيعٍ قَالَ : أَتَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي حَمَدْتُ رَبِّي - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - بِمَحَامِدَ وَمَدْحٍ ، وَإِيَّاكَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَمَا إِنَّ رَبَّكَ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - يُحِبُّ الْمَدْحَ ، هَاتِ مَا امْتَدَحْتَ بِهِ رَبَّكَ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - " . قَالَ : فَجَعَلْتُ أُنْشِدُهُ ، فَجَاءَ رَجُلٌ فَاسْتَأْذَنَ ، آدَمُ ، طِوَالٌ ، أَصْلَعُ ، أَيْسَرُ أَعْسَرُ ، فَاسْتَنْصَتَنِي لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَوَصَفَ لَنَا أَبُو سَلَمَةَ كَيْفَ اسْتَنْصَتَهُ لَهُ قَالَ : كَمَا يَصْنَعُ الْهِرُّ - فَخَرَجَ الرَّجُلُ فَتَكَلَّمَ سَاعَةً ثُمَّ خَرَجَ ، ثُمَّ أَخَذْتُ أُنْشِدُهُ أَيْضًا ، ثُمَّ رَجَعَ بَعْدُ فَاسْتَنْصَتَنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَوَصَفَهُ أَيْضًا ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَنِ الَّذِي تَسْتَنْصِتُنِي لَهُ ؟ فَقَالَ : " هَذَا رَجُلٌ لَا يُحِبُّ الْبَاطِلَ ، هَذَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ بِنَحْوِهِ ، وَقَالَ : فَدَخَلَ رَجُلٌ طِوَالٌ أَقْنَى ، فَقَالَ لِيَ : " اسْكُتْ " . ¤سیدنا اسود بن سریع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں نے کچھ کلمات کے ہمراہ اپنے پروردگار کی حمد بیان کی ہے ، اور کچھ کلمات آپ کی تعریف میں کہے ہیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جہاں تک تمہارے پروردگار کی تعریف کا معاملہ ہے ، تو وہ تعریف کو پسند کرتا ہے ، تم وہ کلمات پیش کرو جن کے ذریعے تم نے اپنے پروردگار کی تعریف بیان کی ہے ، راوی کہتے ہیں : تو میں نے اپنے اشعار سنانے شروع کیے ، اسی دوران ایک شخص آیا اور اس نے اندر آنے کی اجازت مانگی ، وہ شخص گندمی رنگت کا طویل القامت شخص تھا ، جس کے بال اُڑے ہوئے تھے اور وہ دائیں ہاتھ کی بہ نسبت بایاں ہاتھ زیادہ استعمال کرتا تھا ، راوی کہتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے خاموش ہونے کے لئے کہا: ، یہاں پر ابوسلمہ نامی راوی نے یہ بات کر کے دکھائی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں کیسے خاموش کروایا تھا ، یوں جس طرح بلی کے ساتھ کیا جاتا ہے ، پھر وہ شخص آیا ، اس نے کچھ بات چیت کی ، پھر وہ چلا گیا ، پھر میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اشعار سنانا شروع کیے ، کچھ دیر بعد وہ شخص واپس آیا ، تو پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے خاموش کروا دیا ، راوی نے یہاں بھی کر کے دکھایا کہ کس طرح خاموش کروایا تھا ، میں نے عرض کی : یہ شخص کون تھا ؟ جس کی خاطر آپ نے مجھے خاموش کروایا تھا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یہ وہ شخص ہے ، جو باطل کو پسند نہیں کرتا ، یہ عمر بن خطاب ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور امام طبرانی نے اس کی مانند نقل کی ہے ۔ اس میں ان کے یہ الفاظ ہیں : ایک شخص اندر داخل ہوا جو طویل القامت تھا اور اس کی ناک اٹھی ہوئی تھی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا : خاموش ہو جاؤ ۔