مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابُ شِدَّتِهِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - فِي اللَّهِ وَكَرَاهِيَتِهِ لِلْبَاطِلِ . باب: اللہ تعالیٰ کے بارے میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی شدت اور ان کا باطل کو ناپسند کرنا
حدیث نمبر: 14420
وَفِي رِوَايَةٍ عِنْدَهُ أَيْضًا : حَتَّى دَخَلَ رَجُلٌ بَعِيدُ مَا بَيْنَ الْمَنَاكِبِ . وَزَادَ : فَقِيلَ لِي : عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ، فَعَرَفْتُ وَاللَّهِ بَعْدُ أَنَّهُ كَانَ يَهُونُ عَلَيْهِ لَوْ سَمِعَنِي أَنْ لَا يُكَلِّمَنِي حَتَّى يَأْخُذَ بِرِجْلِي فَيَسْحَبَنِي إِلَى الْبَقِيعِ . ¤ وَرِجَالُهُمَا ثِقَاتٌ وَفِي بَعْضِهِمْ خِلَافٌ . ¤محمد محی الدین
ان کی نقل کردہ ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ایک شخص اندر آیا جس کا سینہ چوڑا تھا ، اس روایت میں یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : مجھے بتایا گیا کہ یہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ ہیں ، اللہ کی قسم ! بعد میں مجھے یہ بات پتہ چل گئی کہ ان کے لئے یہ بات مشکل نہیں ہے کہ اگر وہ مجھے کوئی ( غلط بات ) کہتے ہوئے سنیں تو مجھ سے کوئی بات چیت کیے بغیر مجھے پاؤں سے پکڑیں اور مجھے کھینچ کر بقیع کی طرف لے جائیں ۔ ان دونوں روایات کے رجال ثقہ ہیں ، اس کے بعض راویوں کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔