مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابُ شِدَّتِهِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - فِي اللَّهِ وَكَرَاهِيَتِهِ لِلْبَاطِلِ . باب: اللہ تعالیٰ کے بارے میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی شدت اور ان کا باطل کو ناپسند کرنا
عَنْ عُمَرَ بْنِ رَبِيعَةَ : أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ أَرْسَلَ إِلَى كَعْبِ الْأَحْبَارِ فَقَالَ : يَا كَعْبُ ، كَيْفَ تَجِدُ نَعْتِي ؟ قَالَ : أَجِدُ نَعْتَكَ قَرْنًا مِنْ حَدِيدٍ قَالَ : وَمَا قَرْنٌ مِنْ حَدِيدٍ ؟ قَالَ : أَمِيرٌ شَدِيدٌ لَا تَأْخُذُهُ فِي اللَّهِ لَوْمَةُ لَائِمٍ قَالَ : ثُمَّ مَهْ ؟ قَالَ : ثُمَّ يَكُونُ مِنْ بَعْدِكَ خَلِيفَةٌ تَقْتُلُهُ فِئَةٌ ظَالِمَةٌ . ثُمَّ قَالَ : مَهْ ؟ قَالَ : ثُمَّ يَكُونُ الْبَلَاءُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤عمر بن ربیعہ بیان کرتے ہیں : سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کعب احبار کو پیغام بھیج کر دریافت کیا : اے کعب ! تم نے میری صفات کیسی پائی ہیں ؟ تو انہوں نے فرمایا : میں نے آپ کی صفت یہ پائی ہے کہ یہ لوہے کا ایک سینگ ہے ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : لوہے کے سینگ سے مراد کیا ہے ؟ کعب نے بتایا : ایک ایسا حکمران جو مضبوط ہو گا ، اللہ تعالیٰ کے بارے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت اسے گرفت میں نہیں لے گی ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : اور کیا ہے ۔ انہوں نے بتایا : اور یہ ہے کہ آپ کے بعد ایک خلیفہ آئے گا ، جسے ظالم گروہ قتل کر دے گا ۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : پھر کیا ہو گا ؟ کعب نے بتایا : اس کے بعد آزمائش ہو گی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔