مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابُ ، فَأَخَذَ رَجُلَانِ بِعَضُدِي حَتَّى دَنَوْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَرْسِلُوهُ " . فَأَرْسَلُونِي فَجَلَسْتُ بَيْنَ يَدَيْهِ ، فَأَخَذَ بِمَجَامِعِ قَمِيصِي ، ثُمَّ قَالَ : " أَسْلِمْ يَا ابْنَ الْخَطَّابِ ، اللَّهُمَّ اهْدِهِ " . فَقُلْتُ : أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهَ ، وَأَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ . قَالَ : فَكَبَّرَ الْمُسْلِمُونَ تَكْبِيرَةً سُمِعَتْ فِي طُرُقِ مَكَّةَ . وَقَدْ كَانُوا سَبْعِينَ قَبْلَ ذَلِكَ ، وَكَانَ الرَّجُلُ إِذَا أَسْلَمَ فَعَلِمُوا بِهِ النَّاسُ يَضْرِبُونَهُ وَيَضْرِبُهُمْ . باب: حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا اسلام قبول کرنا
وَعَنْ عُمَرَ : أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي لَا أَدَعُ مَجْلِسًا جَلَسْتُهُ فِي الْكُفْرِ إِلَّا أَعْلَنْتُ فِيهِ الْإِسْلَامَ ، فَأَتَى الْمَسْجِدَ ، وَفِيهِ بُطُونُ قُرَيْشٍ مُتَحَلِّقَةٌ فَجَعَلَ يُعْلِنُ الْإِسْلَامَ ، وَيَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهَ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ ، فَثَارَ الْمُشْرِكُونَ ، فَجَعَلُوا يَضْرِبُونَهُ وَيَضْرِبُهُمْ ، فَلَمَّا تَكَاثَرُوا عَلَيْهِ خَلَّصَهُ رَجُلٌ ، فَقُلْتُ لِعُمَرَ : مَنِ الرَّجُلُ الَّذِي خَلَّصَكَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ ؟ قَالَ : ذَاكَ الْعَاصُ بْنُ وَائِلٍ السَّهْمِيُّ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! زمانہ کفر میں ، میں جس بھی محفل میں بیٹھتا رہا ہوں ۔ اس میں سے ہر ایک محفل میں اسلام کا اعلان کروں گا ، پھر وہ مسجد میں آئے ، وہاں قریش کی مختلف شاخوں سے تعلق رکھنے والے لوگ موجود تھے ، جو حلقہ بنا کے بیٹھے ہوئے تھے ۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اسلام کا اعلان کرنا شروع کیا اور اس بات کی گواہی دی کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، اور سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں ، تو مشرکین حملہ آور ہوئے اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو مارنے لگے ۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ انہیں مارنے لگے ، جب ان لوگوں کی تعداد سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے خلاف زیادہ ہو گئی تو ایک شخص نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو چھڑوایا ( سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : ) میں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا : وہ شخص کون تھا جس نے آپ کو مشرکین سے چھڑوایا تھا ، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : وہ عاص بن وائل سہمی تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔