حدیث نمبر: 14414
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : لَمَّا أَسْلَمَ عُمَرُ قَالَ : مَنْ أَنَمُّ النَّاسِ ؟ قَالُوا : فُلَانٌ قَالَ : فَأَتَاهُ فَقَالَ : إِنِّي قَدْ أَسْلَمْتُ فَلَا تُخْبِرَنَّ أَحَدًا . قَالَ : فَخَرَجَ يَجُرُّ إِزَارَهُ وَطَرَفُهُ عَلَى عَاتِقِهِ ، فَقَالَ : أَلَا إِنَّ عُمَرَ قَدْ صَبَا قَالَ : وَأَنَا أَقُولُ : كَذَبْتَ وَلَكِنِّي أَسْلَمْتُ ، وَعَلَيْهِ قَمِيصٌ ، فَقَامَ إِلَيْهِ خَلْقٌ مِنْ قُرَيْشٍ فَقَاتَلَهُمْ وَقَاتَلُوهُ حَتَّى سَقَطَ ، وَأَكَبُّوا عَلَيْهِ ، فَجَاءَ رَجُلٌ عَلَيْهِ فَقَالَ : مَا لَكَمْ وَالرَّجُلِ ؟ أَتَرَوْنَ بَنِي عَدِيٍّ يُخَلُّونَ عَنْكُمْ وَعَنْ صَاحِبِكُمْ ؟ تَقْتُلُونَ رَجُلًا اخْتَارَ لِنَفْسِهِ اتِّبَاعَ مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ فَكَشَفَ الْقَوْمُ عَنْهُ قَالَ : فَقُلْتُ لِأَبِي : مِنَ الرَّجُلُ ؟ قَالَ : الْعَاصُ بْنُ وَائِلِ السَّهْمِيُّ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ بِاخْتِصَارٍ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ إِلَّا أَنَّ ابْنَ إِسْحَاقَ مُدَلِّسٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اسلام قبول کیا تو انہوں نے فرمایا : لوگوں میں سب سے زیادہ چغلی کرنے والا شخص کون ہے ؟ لوگوں نے بتایا : فلاں شخص ہے ، راوی کہتے ہیں : سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اس کے پاس آئے اور اس سے کہا: میں نے اسلام قبول کر لیا ہے ، تم یہ بات کسی کو نہ بتانا ، تو وہ شخص اپنے تہبند کو گھسیٹتا ہوا نکلا ، اس کا ایک کنارہ اس کے کندھے پر تھا ، اس نے کہا: خبردار ! عمر نے دین تبدیل کر لیا ہے ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں نے کہا: تم جھوٹ بول رہے ہو ، میں نے اسلام قبول کیا ہے ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے جسم پر ایک قمیص تھی ، قریش سے تعلق رکھنے والے کچھ لوگ اٹھ کر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور ان سے لڑنے لگے ۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ان لوگوں سے لڑنے لگے ، یہاں تک کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ گر گئے ، وہ لوگ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ پر حملہ آور ہو گئے ، ایک شخص آیا اور بولا: تم اسے کیوں مار رہے ہو ، کیا تم یہ سجھتے ہو کہ بنو عدی تم لوگوں کو اور اس شخص کو چھوڑ دیں گے ، تم ایک ایسے شخص کو مار رہے ہو جس نے اپنی ذات کے لئے محمد کی پیروی کو اختیار کیا ہے ، تو لوگ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس سے ہٹ گئے ، راوی کہتے ہیں : میں نے اپنے والد ( سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ) سے دریافت کیا : وہ شخص کون تھا ، تو انہوں نے بتایا : وہ عاص بن وائل سہمی تھا ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور امام طبرانی نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔ اس روایت کے رجال ثقہ ہیں ، البتہ ابن اسحاق نامی راوی مدلس ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14414
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2494) أخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (83)»