مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الطهارة— طہارت کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي قَوْلِهِ : الْمَاءُ مِنَ الْمَاءِ . باب: نبی اکرم ﷺ کے اس فرمان کا بیان : پانی (یعنی منی کے خروج سے ) پانی (یعنی غسل لازم ) ہوتا ہے
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَائِذٍ قَالَ : سَأَلَ رَجُلٌ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ عَمَّا يُوجِبُ الْغُسْلَ مِنَ الْجِمَاعِ ، وَعَنِ الصَّلَاةِ فِي الثَّوْبِ الْوَاحِدِ ، وَعَمَّا يَحِلُّ مِنَ الْحَائِضِ . فَقَالَ مُعَاذٌ : سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ : " إِذَا جَاوَزَ الْخِتَانُ الْخِتَانَ فَقَدْ وَجَبَ الْغُسْلُ ، وَأَمَّا الصَّلَاةُ فِي الثَّوْبِ الْوَاحِدِ فَتَوَشَّحَ بِهِ ، وَأَمَّا مَا يَحِلُّ مِنَ الْحَائِضِ فَإِنَّهُ يَحِلُّ مِنْهَا مَا فَوْقَ الْإِزَارِ ، وَاسْتِعْفَافُهُ عَنْ ذَلِكَ أَفْضَلُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرَوَى أَبُو دَاوُدَ مِنْهُ قِصَّةَ الْحَائِضِ ، وَرِجَالُ أَبِي دَاوُدَ فِيهِمْ بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ لِتَدْلِيسِهِ ، وَإِسْنَادُ هَذَا حَسَنٌ . ¤عبدالرحمن بن عائذ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نے سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا : صحبت کرنے کے حوالے سے کون سی چیز غسل کو واجب کرتی ہے ؟ ایک کپڑے میں نماز ادا کرنے کا حکم کیا ہے ؟ اور حیض والی عورت کے ساتھ کس حد تک تعلق جائز ہے ؟ تو سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں نے اس بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا تھا : تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جب شرمگاہ ، شرمگاہ سے مل جائے ، تو غسل واجب ہو جاتا ہے ، جہاں تک ایک کپڑے میں نماز ادا کرنے کا تعلق ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے توشیح کے طور پر لپیٹ کر نماز ادا کی تھی ، جہاں تک حیض والی عورت کے ساتھ قربت کا تعلق ہے ، تو تہبند سے اوپر والے حصے کے ساتھ تعلق رکھنا جائز ہے ، لیکن اس سے بھی بچ کے رہنا ، زیادہ فضیلت رکھتا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، امام ابوداؤد نے اس میں سے حیض والی عورت کا واقعہ ذکر کیا ہے ، امام ابوداؤد کے رجال میں ایک راوی بقیہ بن ولید ہے ، اور وہ تدلیس کرنے کی وجہ سے ضعیف ہے ، اس روایت کی سند حسن ہے ۔