مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الطهارة— طہارت کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي قَوْلِهِ : الْمَاءُ مِنَ الْمَاءِ . باب: نبی اکرم ﷺ کے اس فرمان کا بیان : پانی (یعنی منی کے خروج سے ) پانی (یعنی غسل لازم ) ہوتا ہے
وَعَنْ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ - وَكَانَ عَقَبِيًّا بَدْرِيًّا - قَالَ : كُنْتُ عِنْدَ عُمَرَ - رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَيْهِ - فَقِيلَ لَهُ : إِنَّ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ - رَحِمَهُ اللَّهُ - يُفْتِي النَّاسَ فِي الْمَسْجِدِ بِرَأْيِهِ فِي الَّذِي يُجَامِعُ وَلَا يُنْزِلُ . قَالَ : أَعْجِلْ عَلَيَّ بِهِ ، فَأُتِيَ بِهِ فَقَالَ : يَا عَدُوَّ نَفْسِهِ ، أَوْ لَقَدْ بَلَغْتَ أَنْ تُفْتِيَ النَّاسَ فِي مَسْجِدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِرَأْيِكَ ؟ ! قَالَ : مَا فَعَلْتُ ، وَلَكِنْ حَدَّثَنِي عُمُومَتِي عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . قَالَ : أَيُّ عُمُومَتِكَ ؟ قَالَ : أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ وَأَبُو أَيُّوبَ وَرِفَاعَةُ بْنُ رَافِعٍ . فَالْتَفَتَ عُمَرُ - رَحِمَهُ اللَّهُ - إِلَيَّ فَقَالَ : مَا يَقُولُ هَذَا الْغُلَامُ ؟ فَقُلْتُ : كُنَّا نَفْعَلُهُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . قَالَ : سَأَلْتُمْ عَنْهُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ قَالَ : كُنَّا نَفْعَلُهُ عَلَى عَهْدِهِ . قَالَ : فَجَمَعَ النَّاسَ وَاتَّفَقَ النَّاسُ عَلَى أَنَّ الْمَاءَ لَا يَكُونُ إِلَّا مِنَ الْمَاءِ ، إِلَّا عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ وَمُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ ، فَقَالَا : إِذَا جَاوَزَ الْخِتَانُ الْخِتَانَ وَجَبَ الْغُسْلُ . قَالَ : فَقَالَ عَلِيٌّ : يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ، إِنَّ أَعْلَمُ النَّاسِ بِهَذَا أَزْوَاجُ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَرْسَلَ إِلَى حَفْصَةَ - رَحِمَهَا اللَّهُ - فَقَالَتْ : لَا عِلْمَ لِي، فَأَرْسَلَ إِلَى عَائِشَةَ - رَحِمَهَا اللَّهُ - قَالَتْ : إِذَا جَاوَزَ الْخِتَانُ الْخِتَانَ وَجَبَ الْغُسْلُ . قَالَ : فَتَحَطَّمَ عُمَرُ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - يَعْنِي تَغَيَّظَ - ثُمَّ قَالَ : لَا يَبْلُغُنِي أَنَّ أَحَدًا فَعَلَهُ إِلَّا أَنْهَكْتُهُ عُقُوبَةً . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ ، إِلَّا أَنَّ ابْنَ إِسْحَاقَ مُدَلِّسٌ وَهُوَ ثِقَةٌ ، وَفِي الصَّحِيحِ طَرَفٌ مِنْهُ ، زَادَ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ : ثُمَّ أَفَاضُوا فِي الْعَزْلِ ، فَقَالُوا : لَا بَأْسَ ، فَسَارَّ رَجُلٌ صَاحِبَهُ فَقَالَ : مَا هَذِهِ الْمُنَاجَاةُ ؟ فَقَالَ أَحَدُهُمَا : يَزْعُمُ أَنَّهَا الْمَوْءُودَةُ الصُّغْرَى . فَقَالَ عَلِيٌّ : إِنَّهَا لَا تَكُونُ مَوْءُودَةً حَتَّى تَمُرَّ بِسَبْعِ تَارَاتٍ ; قَالَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - ( وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنْسَانَ مِنْ سُلَالَةٍ مِنْ طِينٍ ثُمَّ جَعَلْنَاهُ نُطْفَةً فِي قَرَارٍ مَكِينٍ ) إِلَى قَوْلِهِ : ( فَتَبَارَكَ اللَّهُ أَحْسَنُ الْخَالِقِينَ ). قَالَ : فَتَفَرَّقُوا عَلَى قَوْلِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ أَنَّهُ لَا بَأْسَ بِهِ . ¤سیدنا رفاعہ بن رافع رضی اللہ عنہ ، جنہیں بیعت عقبہ اور غزوہ بدر میں شرکت کا شرف حاصل ہے ، وہ بیان کرتے ہیں : سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس موجود تھا ، جب انہیں یہ بتایا گیا سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ مسجد میں لوگوں کو یہ فتوی دیتے ہیں ، جو اُن کی اپنی رائے کی بنیاد پر ہے کہ جو شخص صحبت کرے اور اسے انزال نہ ہو ، تو اس پر غسل لازم نہیں ہوتا ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اسے جلدی سے میرے پاس لاؤ ، انہیں لایا گیا ، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اے اپنی جان کے دشمن ! مجھے یہ پتہ چلا ہے کہ تم اللہ کے رسول کی مسجد میں ، اپنی رائے کی بنیاد پر لوگوں کو فتوی دیتے ہو ؟ انہوں نے کہا: میں نے ایسا نہیں کیا ، میرے چچاؤں نے ، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے مجھے حدیث بیان کی ہے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ دریافت کیا : تمہارے کون سے چچا نے ؟ انہوں نے جواب دیا : سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ ، سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ اور سیدنا رفاعہ بن رافع رضی اللہ عنہ ، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ میری طرف متوجہ ہوئے اور بولے : یہ لڑکا کیا کہہ رہا ہے ؟ میں نے کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں ہم ایسا کیا کرتے تھے ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : تم لوگوں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں دریافت کیا تھا ؟ تو سیدنا رفاعہ رضی اللہ عنہ نے یہی کہا: کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں ہم یہ کیا کرتے تھے ۔ راوی بیان کرتے ہیں : سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو اکٹھا کیا ، تو لوگوں کو اس بات پر اتفاق تھا کہ غسل صرف منی کے خروج کی وجہ سے لازم ہوتا ہے ، صرف سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ اور سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کا معاملہ مختلف تھا ، ان دونوں حضرات کا یہ کہنا تھا : کہ جب شرمگاہ ، شرمگاہ سے مل جائے ، تو غسل واجب ہو جاتا ہے ، راوی بیان کرتے ہیں : سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : امیر المؤمنین ! اس مسئلے کے بارے میں سب سے زیادہ علم ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج کے پاس ہو گا ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کو پیغام بھیجا ، تو انہوں نے فرمایا : مجھے اس بارے میں علم نہیں ہے ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو پیغام بھیجا ، تو انہوں نے فرمایا : جب شرمگاہ ، شرمگاہ سے مل جائے ، تو غسل واجب ہو جائے گا ، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے غصے کا اظہار کیا ، اور ارشاد فرمایا : اب اگر مجھے کسی کے بارے میں یہ پتہ چلا کہ اُس نے ایسا کیا ہے ، تو میں اُسے سزا دوں گا ۔
یہ روایت امام أحمد نے ، اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، امام أحمد کے رجال ثقہ ہیں ، صرف یہ ہے کہ ابن اسحاق نامی راوی تدلیس کرنے والا ہے ، ویسے وہ ثقہ ہے ” صحیح “ میں اس روایت کا ایک حصہ منقول ہے ، امام طبرانی نے معجم کبیر میں یہ الفاظ نقل کیے ہیں : پھر ان لوگوں نے غزل کے بارے میں گفتگو شروع کی ، تو ان کا یہ کہنا تھا کہ اس میں کوئی حرج نہیں ہے ، ایک شخص نے سرگوشی میں اپنے ساتھی کے ساتھ کوئی بات چیت کی ، تو انہوں نے دریافت کیا : یہ سرگوشی میں کیا بات ہو رہی ہے ؟ ان دونوں میں سے ایک نے کہا: یہ کہہ رہا ہے : یہ تو چھوٹی قسم کا زندہ درگور کرنا ہے تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : زندہ درگور کرنا ، یہ اس وقت تک نہیں ہو سکتا جب تک اُس پر سات مراحل نہیں گزر جاتے ۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے : ” اور ہم نے انسان کو مٹی کے خلاصہ سے تخلیق کیا ، پھر ہم نے اسے ایک مضبوط جگہ پر نطفہ کی شکل میں رکھ دیا “ ۔ یہ آیت یہاں تک ہے ۔ تو اللہ تعالیٰ کی ذات برکت والی ہے جو سب سے بہترین خالق ہے “ ۔ راوی بیان کرتے ہیں : تو سب لوگ سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ کے فتوی کے مطابق قائل ہو کر منتشر ہوئے ، کہ اس ( یعنی عزل کرنے ) میں کوئی حرج نہیں ہے ۔