حدیث نمبر: 1438
وَعَنْ بَعْضِ وَلَدِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ قَالَ : نَادَانِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَنَا عَلَى بَطْنِ امْرَأَتِي فَقُمْتُ وَلَمْ أُنْزِلْ ، فَاغْتَسَلْتُ وَخَرَجْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَخْبَرْتُهُ أَنَّكَ دَعَوْتَنِي وَأَنَا عَلَى بَطْنِ امْرَأَتِي ، فَقُمْتُ وَلَمْ أُنْزِلْ فَاغْتَسَلْتُ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا عَلَيْكَ ، الْمَاءُ مِنَ الْمَاءِ " . قَالَ رَافِعٌ : ثُمَّ أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَعْدَ ذَلِكَ بِالْغُسْلِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَقَالَ : عَنْ سَهْلِ بْنِ رَافِعٍ عَنْ أَبِيهِ ، وَفِيهِ رِشْدِينُ بْنُ سَعْدٍ ، وَهُوَ سَيِّئُ الْحِفْظِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے کے حوالے سے ، سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کا یہ بیان منقول ہے : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلایا میں اُس وقت اپنی بیوی کے قریب تھا ، میں اُٹھ گیا ، ابھی مجھے انزال نہیں ہوا تھا ، میں نے غسل کیا ، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو گیا ، میں نے آپ کو بتایا کہ جب آپ نے مجھے بلایا تھا ، اُس وقت میں اپنی بیوی کے قریب تھا ، میں اُٹھ گیا ، ابھی مجھے انزال نہیں ہوا تھا ، اور میں نے غسل کر لیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم پر کوئی گناہ نہیں ہونا تھا ، کیونکہ پانی ، پانی کی وجہ سے لازم ہوتا ہے ۔ سیدنا رافع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : بعد میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایسی صورتحال میں غسل کرنے کا حکم دیا ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، وہ فرماتے ہیں : یہ سہل بن رافع کے حوالے سے ، اُن کے والد سے منقول ہے ، اس کی سند میں ایک راوی رشدین بن سعد ہے اور وہ خراب حافظے کا مالک ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطهارة / حدیث: 1438
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف