❮
❯
حدیث نمبر: 14343
وَعَنْ عَائِشَةَ فِي قِصَّةِ الْإِفْكِ ، وَفِيهَا : فَقَالَ حَسَّانُ بْنُ ثَابِتٍ يُكَذِّبُ نَفْسَهُ :
حَصَانٌ رَزَانٌ مَا تُزَنُّ بِرَيْبَةٍ وَتُصْبِحُ غَرْثَى مِنْ لُحُومِ الْغَوَافِلِ فَإِنْ كُنْتُ قَدْ قُلْتُ الَّذِي قَدْ
زَعَمْتُمُ فَلَا حَمَلَتْ سَوْطِي إِلَيَّ أَنَامِلِي وَكَيْفَ ؟ وَوِدِّي مَا حَيِيتُ وَنُصْرَتِي
لِآلِ رَسُولِ اللَّهِ زَيْنِ الْمَحَافِلِ أَأَشْتُمُ خَيْرَ الناسِ بَعْلًا وَوَالِدًا وَنَفْسًا
؟ لَقَدْ أُنْزِلْتُ شَرَّ الْمَنَازِلِ .
رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى فِي حَدِيثٍ طَوِيلٍ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرُ حَوْثَرَةَ بْنِ أَشْرَسَ ، وَهُوَ ثِقَةٌ .
محمد محی الدین

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا واقعہ افک نقل کرتے ہوئے بیان کرتی ہیں : سیدنا حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ نے اپنے آپ کو جھٹلاتے ہوئے یہ کہا: ” وہ پاکدامن ہیں ، کامل عقل رکھنے والی ہیں ، ان پر کسی مشکوک صورتحال کا الزام عائد نہیں کیا جا سکتا ، وہ ایسی حالت میں صبح کرتی ہیں کہ غافل لوگوں کے گوشت کے حوالے سے وہ بھوکی ہوتی ہیں ( یعنی وہ کسی کی غیبت نہیں کرتی ہیں ) اگر میں نے وہ بات کہی ہو جو تم لوگ گمان کرتے ہو ، تو میری انگلیوں کے پورے کبھی میری چھڑی کو نہ اُٹھا سکیں ، یہ کیسے ہو سکتا ہے ؟ جبکہ یہ صورتحال ہے کہ جب تک میں زندہ رہا ، میری محبت اور میری مدد اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی آل کے لئے ہو گی ، جو محفل کی زینت ہے ، کیا میں اس شخصیت کو برا کہوں گا ، جو اپنے شوہر ( یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ) کی نسبت سے ، اپنے والد ( یعنی سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ ) کی نسبت سے ، اور خود ذاتی اعتبار سے سب لوگوں سے بہتر ہیں ، اگر میں ایسا کروں ( یعنی انہیں برا کہوں ) گا ، تو میں بری جگہ پر پڑاؤ کروں گا ۔ “
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے ایک طویل حدیث کے ضمن میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف حوثرہ بن اشرس کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14343
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (4931)»