مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابٌ جَامِعٌ فِي فَضْلِهِ . باب: حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے فضائل کا مجموعہ
وَعَنْ عَائِشَةَ فِي قِصَّةِ الْإِفْكِ ، وَفِيهَا : فَقَالَ حَسَّانُ بْنُ ثَابِتٍ يُكَذِّبُ نَفْسَهُ : ¤ حَصَانٌ رَزَانٌ مَا تُزَنُّ بِرَيْبَةٍ وَتُصْبِحُ غَرْثَى مِنْ لُحُومِ الْغَوَافِلِ فَإِنْ كُنْتُ قَدْ قُلْتُ الَّذِي قَدْ ¤ زَعَمْتُمُ فَلَا حَمَلَتْ سَوْطِي إِلَيَّ أَنَامِلِي وَكَيْفَ ؟ وَوِدِّي مَا حَيِيتُ وَنُصْرَتِي ¤ لِآلِ رَسُولِ اللَّهِ زَيْنِ الْمَحَافِلِ أَأَشْتُمُ خَيْرَ الناسِ بَعْلًا وَوَالِدًا وَنَفْسًا ¤ ؟ لَقَدْ أُنْزِلْتُ شَرَّ الْمَنَازِلِ . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى فِي حَدِيثٍ طَوِيلٍ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرُ حَوْثَرَةَ بْنِ أَشْرَسَ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا واقعہ افک نقل کرتے ہوئے بیان کرتی ہیں : سیدنا حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ نے اپنے آپ کو جھٹلاتے ہوئے یہ کہا: ” وہ پاکدامن ہیں ، کامل عقل رکھنے والی ہیں ، ان پر کسی مشکوک صورتحال کا الزام عائد نہیں کیا جا سکتا ، وہ ایسی حالت میں صبح کرتی ہیں کہ غافل لوگوں کے گوشت کے حوالے سے وہ بھوکی ہوتی ہیں ( یعنی وہ کسی کی غیبت نہیں کرتی ہیں ) میں اگرچہ پہلے ایسا فرد تھا ، کہ میں نے وہ بات کہی تھی ، جو تم لوگوں کا بیان تھا ، لیکن میری انگلی کے پوروں نے میری چھڑی کو بھی نہیں اُٹھایا ، لیکن اب یہ کیسے ہو سکتا ہے ؟ جبکہ یہ صورتحال ہے کہ جب تک میں زندہ رہا ، میری محبت اور میری مدد اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی آل کے لئے ہو گی ، جو محفل کی زینت ہے ، کیا میں اس شخصیت کو برا کہوں گا ، جو اپنے شوہر ( یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ) کی نسبت سے ، اپنے والد ( یعنی سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ ) کی نسبت سے ، اور خود ذاتی اعتبار سے سب لوگوں سے بہتر ہیں ، اگر میں ایسا کروں ( یعنی انہیں برا کہوں ) گا ، تو میں بری جگہ پر پڑاؤ کروں گا ۔ “
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے ایک طویل حدیث کے ضمن میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف حوثرہ بن اشرس کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔