مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابٌ جَامِعٌ فِي فَضْلِهِ . باب: حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے فضائل کا مجموعہ
وَعَنْ رَبِيعَةَ الْأَسْلَمِيِّ قَالَ : كُنْتُ أَخْدِمُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَعْطَانِي أَرْضًا وَأَعْطَى أَبَا بَكْرٍ أَرْضًا ، وَجَاءَتِ الدُّنْيَا فَاخْتَلَفْنَا فِي عِذْقِ نَخْلَةٍ ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : هِيَ فِي حَدِّي ، وَقُلْتُ أَنَا : هِيَ فِي حَدِّي . فَكَانَ بَيْنِي وَبَيْنَ أَبِي بَكْرٍ كَلَامٌ ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ كَلِمَةً كَرِهْتُهَا وَنَدَمَ ، فَقَالَ لِي : يَا رَبِيعَةُ ، رُدَّ عَلَيَّ مِثْلَهَا حَتَّى تَكُونَ قِصَاصًا ، فَقُلْتُ : لَا أَفْعَلُ . فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : لَتَفْعَلَنَّ أَوْ لَأَسْتَعْدِيَنَّ عَلَيْكَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ فَقُلْتُ : مَا أَنَا بِفَاعِلٍ ، وَرَفَضَ الْأَرْضَ ، فَانْطَلَقَ أَبُو بَكْرٍ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَانْطَلَقْتُ أَتْلُوهُ ، فَجَاءَ أُنَاسٌ مِنْ أَسْلَمَ فَقَالُوا : يَرْحَمُ اللَّهُ أَبَا بَكْرٍ ، فِي أَيِّ شَيْءٍ يَسْتَعْدِي عَلَيْكَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ الَّذِي قَالَ لَكَ مَا قَالَ ؟ ! قُلْتُ : أَتَدْرُونَ مَنْ هَذَا ؟ هَذَا أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ ، وَهُوَ ثَانِيَ اثْنَيْنِ ، وَهُوَ ذُو شَيْبَةِ الْمُسْلِمِينَ ; فَإِيَّاكُمْ لَا يَلْتَفِتُ فَيَرَاكُمْ تَنْصُرُونِي عَلَيْهِ فَيَغْضَبَ ، فَيَأْتِيَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَيَغْضَبَ لِغَضَبِهِ ، فَيَغْضَبَ اللَّهُ لِغَضَبِهِمَا ; فَتَهْلَكَ رَبِيعَةُ . قَالُوا : فَمَا تَأْمُرُنَا ؟ قَالَ : ارْجِعُوا ، فَانْطَلَقَ أَبُو بَكْرٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَتَبِعْتُهُ وَحْدِي ، وَجَعَلْتُ أَتْلُوهُ حَتَّى أَتَى رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَحَدَّثَهُ الْحَدِيثَ كَمَا كَانَ ، فَرَفَعَ إِلَيَّ رَأْسَهُ فَقَالَ : " يَا رَبِيعَةُ ، مَا لَكَ وَلِلصِّدِّيقِ ؟ " . قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، كَانَ كَذَا كَانَ كَذَا قَالَ لِي كَلِمَةً كَرِهْتُهَا ، فَقَالَ لِي : قُلْ كَمَا قُلْتُ حَتَّى يَكُونَ قِصَاصًا . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَجَلْ ، : فَلَا تَرُدَّنَّ عَلَيْهِ ، وَلَكِنْ قُلْ : غَفَرَ اللَّهُ لَكَ يَا أَبَا بَكْرٍ " . فَوَلَّى أَبُو بَكْرٍ وَهُوَ يَبْكِي . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَأَحْمَدُ بِنَحْوِهِ فِي حَدِيثٍ طَوِيلٍ تَقَدَّمَ فِي النِّكَاحِ ، وَفِيهِ مُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤سیدنا ربیعہ اسلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کیا کرتا تھا ، آپ نے مجھے ایک زمین عطا کی ، آپ نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو بھی ایک زمین عطا کی ، جب دنیا آئی ، تو ہمارے درمیان کھجور کے ایک درخت کے بارے میں اختلاف ہو گیا ، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ میری حد میں آتا ہے ، میں نے کہا: یہ میری حد میں آتا ہے ، اس دوران میرے اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے درمیان تکرار ہو گئی ، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے مجھے ایک ایسی بات کہی جو مجھے بری لگی ، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو ندامت ہوئی ، تو انہوں نے مجھ سے کہا: اے ربیعہ ! تم بھی اس طرح کی بات مجھے جواب میں کہہ دو ، تاکہ بدلہ ہو جائے ، میں نے کہا: میں ایسا نہیں کروں گا ۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: یا تو تم ایسا کرو گے ورنہ میں تمہارے خلاف نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں شکایت کروں گا ، میں نے کہا: میں ایسا نہیں کروں گا ۔ پھر انہوں نے اس زمین کو چھوڑا ، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے ۔ ان کے پیچھے چلتا ہوا میں بھی جانے لگا ۔ اسلم قبیلے سے تعلق رکھنے والے کچھ لوگ آئے ہوئے تھے ۔ ان لوگوں نے کہا: اللہ تعالیٰ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ پر رحم کرے ، یہ کس لئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے تمہارے خلاف شکایت کرنا چاہ رہے ہیں ، حالانکہ تمہارے بارے میں بات تو انہوں نے کی ہے ، میں نے کہا: کیا تم لوگ یہ بات جانتے ہو کہ یہ کون ہیں ، یہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ہیں ۔ یہ دو افراد میں سے ایک ہیں ۔ یہ مسلمانوں کے بزرگ ہیں ، تم لوگ اس چیز سے بچنے کی کوشش کرو کہ ایسا نہ ہو کہ وہ مڑ کے دیکھیں اور انہیں تم نظر آؤ کہ تم لوگ ان کے خلاف میری مدد کرنا چاہ رہے ہو ، اور پھر وہ غصے میں آ جائیں اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چلے جائیں اور ان کے غصے کی وجہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بھی غصے میں آ جائیں اور ان دونوں کے غصے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ بھی غصے میں آ جائے اور ربیعہ ہلاک ہو جائے ، لوگوں نے کہا: پھر تم ہمیں کیا کہتے ہو ، سیدنا ربیعہ رضی اللہ عنہ نے کہا: تم لوگ واپس چلے جاؤ ۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چلے گئے ۔ ان کے بعد میں بھی اکیلا چلا گیا ، میں ان کے پیچھے چلتا ہوا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو پوری بات بتائی ، جس طرح ہوئی تھی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سر اٹھا کر میری طرف دیکھا اور فرمایا : اے ربیعہ تمہارا اور صدیق کا کیا معاملہ ہے ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اس اس طرح ہوا تھا ، انہوں نے مجھے ایک بات کہی جو مجھے اچھی نہیں لگی ، تو انہوں نے مجھ سے کہا: تم بھی اس طرح کہہ لو ، جس طرح میں نے کہا: ہے ، تاکہ بدلہ ہو جائے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم نے ٹھیک کیا ہے ، تم نے اسے ہرگز جواب نہیں دینا تھا ، لیکن تم یہ کہو کہ اے ابوبکر اللہ تعالیٰ آپ کی مغفرت کرے ، راوی کہتے ہیں : تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ روتے ہوئے تشریف لے گئے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور امام أحمد نے اس کی مانند روایت ایک طویل حدیث کے ضمن میں نقل کی ہے ، جو اس سے پہلے نکاح سے متعلق باب میں گزر چکی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی مبارک بن فضالہ ہے ، اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔