حدیث نمبر: 14320
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ : أَنَّ أَبَا بَكْرٍ نَالَ مِنْ عُمَرَ شَيْئًا ، ثُمَّ قَالَ : اسْتَغْفِرْ لِي يَا أَخِي ، فَغَضِبَ عُمَرُ ، فَقَالَ ذَلِكَ مَرَّاتٍ فَغَضِبَ عُمَرُ ، فَذَكَرَ لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَانْتَهَوْا إِلَيْهِ وَجَلَسُوا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يَسْأَلُكَ أَخُوكَ أَنْ تَسْتَغْفِرَ لَهُ فَلَا تَفْعَلُ ؟ " . فَقَالَ : وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ نَبِيًّا مَا مِنْ مَرَّةٍ يَسْأَلُنِي إِلَّا وَأَنَا أَسْتَغْفِرُ لَهُ ، وَمَا مِنْ خَلْقِ اللَّهِ أَحَبُّ إِلَيَّ بَعْدَكَ مِنْهُ . فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : وَأَنَا وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا مِنْ أَحَدٍ بَعْدَكَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْهُ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا تُؤْذُونِي فِي صَاحِبِي فَإِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - بَعَثَنِي بِالْهُدَى وَدِينِ الْحَقِّ ، فَقُلْتُمْ : كَذَبْتَ ، وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : صَدَقْتَ ، وَلَوْلَا أَنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - سَمَّاهُ صَاحِبًا ، لَاتَّخَذْتُهُ خَلِيلًا ، وَلَكِنْ أُخُوَّةٌ لِلَّهِ ، أَلَا فَسُدُّوا كُلَّ خَوْخَةٍ إِلَّا خَوْخَةَ ابْنِ أَبِي قُحَافَةَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو برا بھلا کہا: ، اور پھر اس کے بعد انہوں نے کہا: اے میرے بھائی ! آپ میرے لئے دعائے مغفرت کریں ، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ غصے میں آ گئے ( اور انہوں نے انکار کر دیا ) سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے چند مرتبہ یہ بات کہی لیکن سیدنا عمر رضی اللہ عنہ غصے میں تھے ۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس بات کا تذکرہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا ، جب لوگ آپ کے پاس آئے اور وہاں بیٹھے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تمہارے بھائی نے تم سے یہ کہا: تم اس کے لیے دعائے مغفرت کرو ، تو تم نے ایسا نہیں کیا ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اس ذات کی قسم ! جس نے آپ کو حق کے ہمراہ نبی بنا کر مبعوث کیا ہے ۔ انہوں نے جب بھی مجھ سے یہ کہا: تو میں نے ان کے لئے ہمیشہ دعائے مغفرت کی ، آپ کے بعد میرے نزدیک مخلوق میں کوئی بھی ان سے زیادہ محبوب نہیں ہے ، تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: جس ذات نے آپ کو حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے ، میرا بھی یہ عالم ہے کہ میرے نزدیک آپ کے بعد ان سے زیادہ محبوب اور کوئی نہیں ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میرے ساتھی کے بارے میں تم لوگ مجھے اذیت نہ پہنچاؤ ، اللہ تعالیٰ نے مجھے ہدایت اور دین حق کے ہمراہ مبعوث کیا ، تو تم لوگوں نے کہا: آپ غلط کہہ رہے ہیں ، اور ابوبکر نے کہا: آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں ، اللہ کی قسم ! اگر اللہ تعالیٰ نے اس کا نام صاحب نہ رکھا ہوتا تو میں نے اسے خلیل بنا لینا تھا ، لیکن بھائی چارہ اللہ تعالیٰ کے لئے ہے ، خبردار ! تم لوگ ابوقحافہ کے بیٹے کے مخصوص دروازے کے علاوہ ہر دروازہ بند کر دو ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14320
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (13383)»