حدیث نمبر: 14309
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : رَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنَ الْبَقِيعِ . قُلْتُ : فَذَكَرَ حَدِيثَ مَرَضِهِ إِلَى أَنْ قَالَ : قَالَتْ : فَصَبَنْنَا عَلَيْهِ حَتَّى طَفِقَ يَقُولُ : " حَسْبُكُمْ ، حَسْبُكُمْ " . - قَالَ مُحَمَّدٌ : يَعْنِي ابْنَ إِسْحَاقَ - ثُمَّ خَرَجَ - كَمَا حَدَّثَنِي أَيُّوبُ بْنُ بَشِيرٍ - عَاصِبًا رَأْسَهُ فَجَلَسَ عَلَى الْمِنْبَرِ ، فَكَانَ أَوَّلُ مَا تَكَلَّمَ بِهِ أَنْ صَلَّى عَلَى أَصْحَابِ أُحُدٍ فَأَكْثَرَ الصَّلَاةَ عَلَيْهِمْ ، ثُمَّ قَالَ : " إِنَّ عَبْدًا مِنْ عِبَادِ اللَّهِ خَيَّرَهُ اللَّهُ بَيْنَ الدُّنْيَا وَبَيْنَ مَا عِنْدَهُ ، فَاخْتَارَ مَا عِنْدَ اللَّهِ " . قَالَ : فَفَهِمَهَا أَبُو بَكْرٍ ، فَبَكَى ، وَعَرَفَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَفْسَهُ يُرِيدُ . قَالَ : " عَلَى رَسْلِكَ يَا أَبَا بَكْرٍ ، انْظُرُوا فِي الْمَسْجِدِ هَذِهِ الْأَبْوَابَ اللَّاصِقَةَ فَسُدُّوهَا ، إِلَّا مَا كَانَ مِنْ بَيْتِ أَبِي بَكْرٍ ; فَإِنِّي لَا أَعْلَمُ أَحَدًا كَانَ أَفْضَلَ عِنْدِي فِي الصُّحْبَةِ مِنْهُ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤ قُلْتُ : وَتَأْتِي أَحَادِيثُ تَتَضَمَّنُ سَدَّ الْأَبْوَابِ غَيْرِ بَابِهِ فِي أَحَادِيثَ تَأْتِي فِي مَوَاضِعِهَا . إِنْ شَاءَ اللَّهُ . ¤
محمد محی الدین

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بقیع سے واپس تشریف لائے ( راوی کہتے ہیں : ) اس کے بعد انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری کے بارے میں حدیث ذکر کی ہے ، جس میں آگے چل کر یہ الفاظ ہیں : سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : ہم نے آپ پر پانی ڈالنا شروع کیا ، یہاں تک آپ نے یہ فرمانا شروع کیا ، بس کافی ہے ، کافی ہے ، یہاں محمد بن اسحاق نامی راوی نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : جس طرح ایوب بن بشیر نے مجھے یہ حدیث بیان کی ہے ۔ اس کے مطابق نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے سر پر پٹی باندھ کر باہر تشریف لے گئے اور منبر پر تشریف فرما ہوئے ، آپ نے گفتگو کا آغاز اس بات سے کیا کہ آپ نے شہداء احد کے لئے دعائے رحمت کی اور ان کے لئے بکثرت دعا کی ، پھر آپ نے ارشاد فرمایا : اللہ کے بندوں میں سے ایک بندے کو اللہ تعالیٰ نے دنیا اور اپنے پاس موجود چیز کے درمیان اختیار دیا ، تو اس بندے نے اس چیز کو اختیار کر لیا جو اللہ تعالیٰ کے پاس ہے ، راوی کہتے ہیں : سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو یہ بات سمجھ آ گئی اور وہ رونے لگے ، اور انہیں یہ بات پتہ چل گئی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ذات مراد لی ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ابوبکر ! آرام سے رہو ( پھر آپ نے لوگوں سے فرمایا : ) تم لوگ مسجد کا جائزہ لو ، اس کے ساتھ لگنے والے تمام دروازوں کو بند کر دو ، صرف اس دروازے کو رہنے دو جو ابوبکر کے گھر کی طرف ہے ، کیونکہ مجھے کسی ایسے شخص کا علم نہیں ہے ، جس نے ابوبکر سے زیادہ اچھے طریقے سے میرا ساتھ دیا ہو ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں آگے چل کر کچھ احادیث آئیں گی جو دوسرے باب میں آئیں گی ، جن میں دروازے بند کرنے کا ذکر ہو گا ، اور وہ احادیث اپنے مخصوص مقامات پر آئیں گی ، اگر اللہ نے چاہا ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14309
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «اخرجه ابر بعلي فى المسند (4579)»