حدیث نمبر: 14269
وَفِي رِوَايَةٍ : " الرَّفِيقِ الْأَعْلَى الْأَسْعَدِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، إِلَّا أَنَّهَا قَالَتْ : قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَيْنَ سَحْرِي وَنَحْرِي . قَالَتْ : وَظَنَنْتُ أَنَّهُ سَيَرُدُّ اللَّهُ عَلَيْهِ رُوحَهُ . قَالَتْ : وَكَذَلِكَ يَفْعَلُ بِالْأَنْبِيَاءِ ، فَتَحَرَّكَ فَقُلْتُ : إِنْ خُيِّرْتَ الْيَوْمَ فَلَنْ تَخْتَارَنَا . ¤ وَأَحَدُ إِسْنَادَيْ أَحْمَدَ رِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” وہ رفیق اعلیٰ جو سب سے زیادہ سعادت والا ہے ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال میری گردن اور سینے کے درمیان ہوا تھا ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : میرا یہ گمان تھا کہ اللہ تعالیٰ آپ کی روح کو آپ کی طرف واپس کرے گا ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : انبیاء کرام کے ساتھ اسی طرح ہوتا ہے ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حرکت کی ، تو میں نے سوچا کہ اگر آج آپ کو اختیار دیا بھی گیا ، تو آپ ہمیں اختیار نہیں کریں گے ۔ امام أحمد کی دو اسناد میں سے ایک کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 14269
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (120/6)»