حدیث نمبر: 14268
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَا مِنْ نَبِيٍّ إِلَّا تُقْبَضُ نَفْسُهُ ، ثُمَّ يَرَى الثَّوَابَ ، ثُمَّ تُرَدُّ إِلَيْهِ فَتُخَيَّرُ بَيْنَ أَنْ تُرَدَّ إِلَيْهِ إِلَى أَنْ يَلْحَقَ " . ¤ فَكُنْتُ قَدْ حَفِظْتُ ذَلِكَ مِنْهُ ، فَإِنِّي لَمُسْنِدَتُهُ إِلَى صَدْرِي فَنَظَرْتُ إِلَيْهِ حَتَّى مَالَتْ عُنُقُهُ ، فَقُلْتُ : قَدْ قُضِيَ . قَالَتْ : فَعَرَفْتُ الَّذِي قَالَ . قَالَتْ : فَنَظَرْتُ إِلَيْهِ حَتَّى ارْتَفَعَ وَنَظَرَ ، قُلْتُ : إِذًا لَا يَخْتَارُنَا ، فَقَالَ : مَعَ الرَّفِيقِ الْأَعْلَى فِي الْجَنَّةِ مَعَ النَّبِيِّينَ وَالصِّدِّيقِينَ إِلَى آخَرِ الْآيَةِ . ¤
محمد محی الدین

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” ہر نبی کی جان قبض ہوتی ہے ، پھر وہ ثواب دیکھتا ہے ، پھر وہ جان اس کی طرف لوٹا دی جاتی ہے ، پھر اسے یہ اختیار دیا جاتا ہے کہ یا تو اس جان کو لوٹا دیا جائے ، یا پھر یہ ہے کہ وہ آگے چلا جائے ۔ “ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : تو میں نے یہ بات یاد رکھی ہوئی تھی ، ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے سینے کے ساتھ ٹیک لگائی ہوئی تھی ، میں آپ کی طرف دیکھ رہی تھی ، اس دوران آپ کی گردن ڈھلک گئی ، میں نے سوچا شاید آپ کا انتقال ہو گیا ہے ، لیکن پھر مجھے وہ بات یاد آ گئی ، جو آپ نے ارشاد فرمائی تھی ، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف دیکھا ، آپ اُٹھے ، آپ نے نظر کی ، میں نے کہا: ایسی صورت میں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں اختیار نہیں کریں گے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں جنت میں رفیق اعلیٰ کا ساتھ چاہتا ہوں ، ان لوگوں کا ساتھ جن پر اللہ تعالیٰ نے انعام کیا ، جن کا تعلق انبیاء اور صدیقین سے ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ ۔ یہ آیت کے آخر تک تلاوت کیا ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 14268
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (74/6)»