حدیث نمبر: 14261
وَعَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ قَالَ : سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ : لَمَّا كَانَ قَبْلَ وَفَاةِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَتَاهُ جِبْرِيلُ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - فَقَالَ : يَا مُحَمَّدُ ، إِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - أَرْسَلَنِي إِلَيْكَ إِكْرَامًا لَكَ ، وَتَفْضِيلًا لَكَ ، وَخَاصَّةً لَكَ ، أَسْأَلُكَ عَمَّا هُوَ أَعْلَمُ بِهِ مِنْكَ ، يَقُولُ : كَيْفَ تَجِدُكَ ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَجِدُنِي يَا جِبْرِيلُ مَغْمُومًا ، وَأَجِدُنِي يَا جِبْرِيلُ مَكْرُوبًا " . فَلَمَّا كَانَ الْيَوْمُ الثَّالِثُ هَبَطَ جِبْرِيلُ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - وَهَبَطَ مَلَكُ الْمَوْتِ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - وَهَبَطَ مَعَهُمَا مَلَكٌ فِي الْهَوَاءِ يُقَالُ لَهُ : إِسْمَاعِيلُ ، عَلَى سَبْعِينَ أَلْفِ مَلَكٍ لَيْسَ فِيهِمْ مَلَكٌ إِلَّا عَلَى سَبْعِينَ أَلْفِ مَلَكٍ ، يُشَيِّعُهُمْ جِبْرِيلُ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - فَقَالَ : يَا مُحَمَّدُ ، إِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - أَرْسَلَنِي إِلَيْكَ إِكْرَامًا لَكَ ، وَتَفْضِيلًا لَكَ ، وَخَاصَّةً لَكَ ، أَسْأَلُكَ عَمَّا هُوَ أَعْلَمُ بِهِ مِنْكَ ، يَقُولُ : كَيْفَ تَجِدُكَ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - " أَجِدُنِي يَا جِبْرِيلُ مَغْمُومًا ، وَأَجِدُنِي يَا جِبْرِيلُ مَكْرُوبًا " . قَالَ : فَاسْتَأْذَنَ مَلَكُ الْمَوْتِ عَلَى الْبَابِ ، فَقَالَ جِبْرِيلُ : يَا مُحَمَّدُ ، هَذَا مَلَكُ الْمَوْتِ يَسْتَأْذِنُ عَلَيْكَ ، وَمَا اسْتَأْذَنَ عَلَى آدَمِيٍّ قَبِلَكَ ، وَلَا يَسْتَأْذِنُ عَلَى آدَمِيٍّ بَعْدَكَ . ¤ فَقَالَ : " ائْذَنْ لَهُ " . فَأَذِنَ لَهُ جِبْرِيلُ ، فَأَقْبَلَ حَتَّى وَقَفَ بَيْنَ يَدَيْهِ . فَقَالَ : يَا مُحَمَّدُ ، إِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - أَرْسَلَنِي إِلَيْكَ ، وَأَمَرَنِي أَنْ أُطِيعَكَ فِيمَا أَمَرْتَنِي بِهِ ، إِنْ تَأْمُرْنِي أَنْ أَقْبِضَ نَفْسَكَ قَبَضْتُهَا ، وَإِنْ كَرِهْتَ تَرَكْتُهَا ؟ قَالَ : " وَتَفْعَلُ يَا مَلَكَ الْمَوْتِ ؟ " . قَالَ : نَعَمْ . وَبِذَلِكَ أُمِرْتُ أَنْ أُطِيعَكَ فِيمَا أَمَرْتَنِي بِهِ . فَقَالَ لَهُ جِبْرِيلُ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - : إِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - قَدِ اشْتَاقَ إِلَى لِقَائِكَ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " امْضِ لِمَا أُمِرْتَ بِهِ " . فَقَالَ لَهُ جِبْرِيلُ : هَذَا آخِرُ وَطْأَتِي فِي الْأَرْضِ ، إِنَّمَا كُنْتَ حَاجَتِي فِي الدُّنْيَا . ¤ فَلَمَّا تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَجَاءَتِ التَّعْزِيَةُ ، جَاءَ آتٍ يَسْمَعُونَ حِسَّهُ وَلَا يَرَوْنَ شَخْصَهُ ، فَقَالَ : السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ ، كُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ ، إِنَّ فِي اللَّهِ عَزَاءً مِنْ كُلِّ مُصِيبَةٍ ، وَخَلَفًا مِنْ كُلِّ هَالِكٍ ، وَدَرْكًا مِنْ كُلِّ فَائِتٍ ، فَبِاللَّهِ فَثِقُوا ، وَإِيَّاهُ فَارْجُوا ; فَإِنَّ الْمُصَابَ مَنْ حُرِمَ الثَّوَابَ ، وَالسَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَيْمُونٍ الْقَدَّاحُ ، وَهُوَ ذَاهِبُ الْحَدِيثِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا علی بن حسین رضی اللہ عنہ ( یعنی امام زین العابدین ) بیان کرتے ہیں : میں نے اپنے والد کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے : ” نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات سے پہلے سیدنا جبرائیل علیہ السلام آپ کے پاس آئے اور بولے : اے سیدنا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ! اللہ تعالیٰ نے مجھے آپ کی عزت افزائی کے لئے اور آپ کی فضیلت کے اظہار کے لئے اور بطور خاص آپ کے لئے ، آپ کے پاس بھیجا ہے ، تاکہ میں آپ سے اس چیز کے بارے میں دریافت کروں ، جس کے بارے میں پروردگار آپ سے بھی زیادہ بہتر جانتا ہے ، اس نے یہ فرمایا ہے : آپ کیسا محسوس کر رہے ہیں ؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے جبرائیل ! میں اپنے آپ کو پریشان محسوس کر رہا ہوں ، اے جبرائیل ! میں خود کو مشکل میں محسوس کر رہا ہوں ، جب تیسرا دن آیا ، تو سیدنا جبرائیل نازل ہوئے اور ان کے ساتھ ملک الموت نازل ہوئے ، اور ان دونوں کے ساتھ ایک فرشتہ تھا ، جو ہوا میں تھا ، اس کا نام اسماعیل تھا ، وہ ستر ہزار فرشتوں کے ساتھ تھا ، اس میں سے ہر ایک فرشتے کے ساتھ مزید ستر ہزار فرشتے تھے ، وہ سیدنا جبرائیل علیہ السلام کے ساتھ آئے تھے ، سیدنا جبرائیل علیہ السلام نے کہا: اے سیدنا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ! اللہ تعالیٰ نے آپ کی عزت افزائی کے لئے آپ کی فضیلت کے اظہار کے لئے بطور خاص آپ کی طرف مجھے بھیجا ہے ، تاکہ میں آپ سے اس چیز کے بارے میں دریافت کروں ، جس کے بارے میں پروردگار آپ سے بھی زیادہ بہتر جانتا ہے ، وہ یہ فرما رہا ہے : آپ کیسا محسوس کر رہے ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے جبرائیل ! میں خود کو غمگین محسوس کر رہا ہوں ، اے جبرائیل ! میں خود کو پریشان محسوس کر رہا ہوں ، راوی بیان کرتے ہیں : پھر ملک الموت نے دروازے پر اندر آنے کی اجازت مانگی ، سیدنا جبرائیل نے کہا: اے سیدنا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) یہ ملک الموت ہے ، یہ آپ سے اجازت مانگ رہا ہے ، اس نے آپ سے پہلے کسی شخص سے اجازت نہیں مانگی ، اور یہ آپ کے بعد بھی کبھی کسی سے اجازت نہیں مانگے گا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اسے اجازت دے دو ! سیدنا جبرائیل علیہ السلام نے اسے اجازت دی وہ آیا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آ کے ٹھہر گیا ، اس نے عرض کی : اے سیدنا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ! اللہ تعالیٰ نے مجھے آپ کی طرف بھیجا ہے ، اس نے مجھے یہ حکم دیا ہے کہ آپ مجھے جو حکم دیں گے میں اس کے بارے میں آپ کی اطاعت کروں گا ، اگر آپ مجھے یہ حکم دیتے ہیں کہ میں آپ کی جان قبض کر لوں ، تو میں اسے قبض کر لوں گا ، اور اگر آپ اسے ناپسند کرتے ہیں تو میں اسے چھوڑ دوں گا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : اے ملک الموت کیا تم ایسا ہی کرو گے ؟ اس نے کہا: جی ہاں ، مجھے اسی بات کا حکم دیا گیا ہے کہ آپ مجھے جو ہدایت کریں گے اس کے بارے میں ، میں آپ کی اطاعت کروں گا ، سیدنا جبرائیل نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: اللہ تعالیٰ آپ سے ملاقات کا مشتاق ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم اس چیز کو جاری کرو جس کا تمہیں حکم دیا گیا ہے ، تو سیدنا جبرائیل نے ان سے کہا: یہ میرا زمین پر آخری مرتبہ آنا ہے ، دنیا میں مجھے آپ سے ہی کام تھا ۔ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہو گیا ، تو ایک تعزیت کرنے والی کوئی چیز آئی تھی ، اس کی آمد کا تو پتہ چلتا تھا ، اس کی آہٹ کا احساس ہوتا تھا ، لیکن اس کا وجود نظر نہیں آتا تھا ، اس نے کہا: آپ پر سلام ہو ، اللہ تعالیٰ کی رحمتیں اور برکتیں نازل ہوں ، ہر جان نے موت کا ذائقہ چکھنا ہے ، بے شک اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہی ہر مصیبت کا بدلہ ہو سکتا ہے ، اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے ، ہر ہلاک ہونے والے کا بدلہ مل سکتا ہے ، اور ہر فوت ہونے والے کی جگہ بدل مل سکتا ہے ، تو تم لوگ اللہ تعالیٰ پر یقین رکھو ، اور اس سے ثواب کی امید رکھو ، کیونکہ مصیبت زدہ وہ شخص ہوتا ہے ، جو ثواب سے محروم رہے ، تم پر سلام ہو اور اللہ تعالیٰ کی رحمتیں ہوں ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن میمون قداح ہے ، اور وہ ذاہب الحدیث ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 14261
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (2890)»