حدیث نمبر: 14252
عَنِ الْفَضْلِ بْنِ الْعَبَّاسِ قَالَ : جَاءَنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَخَرَجْتُ إِلَيْهِ ، فَوَجَدْتُهُ مَوْعُوكًا ، قَدْ عَصَبَ رَأْسَهُ قَالَ : " خُذْ بِيَدِي يَا فَضْلُ " . فَأَخَذْتُ بِيَدِهِ حَتَّى انْتَهَى إِلَى الْمِنْبَرِ ، فَجَلَسَ عَلَيْهِ ، ثُمَّ قَالَ : " صِحْ فِي النَّاسِ " . فَصِحْتُ فِي النَّاسِ فَاجْتَمَعَ نَاسٌ ، فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ، ثُمَّ قَالَ : " يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، إِنِّي قَدْ دَنَا مِنِّي حُقُوقٌ مِنْ بَيْنِ أَظْهُرِكُمْ ; فَمَنْ كُنْتُ جَلَدْتُ لَهُ ظَهْرًا فَهَذَا ظَهْرِي فَلْيَسْتَقِدْ مِنْهُ ، أَلَا وَمَنْ كُنْتُ قَدْ شَتَمْتُ لَهُ عِرْضًا فَهَذَا عِرْضِي فَلْيَسْتَقِدْ مِنْهُ ، وَمَنْ كُنْتُ أَخَذْتُ لَهُ مَالًا فَهَذَا مَالِي فَلْيَسْتَقِدْ مِنْهُ ، لَا يَقُولَنَّ رَجُلٌ : إِنِّي أَخْشَى الشَّحْنَاءَ مِنْ قِبَلِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَلَا وَإِنَّ الشَّحْنَاءَ لَيْسَتْ مِنْ طَبِيعَتِي وَلَا مِنْ شَأْنِي ، أَلَا وَإِنَّ أَحَبَّكُمُ إِلَيَّ مَنَ أَخَذَ حَقًّا إِنْ كَانَ لَهُ ، أَوْ حَلَّلَنِي ، فَلَقِيتُ اللَّهَ وَأَنَا طَيِّبُ النَّفْسِ ، أَلَا وَإِنِّي لَا أَرَى ذَلِكَ مُغْنِيًا عَنِّي حَتَّى أَقُومَ فِيكُمْ مِرَارًا " . ثُمَّ نَزَلَ فَصَلَّى الظُّهْرَ ، ثُمَّ عَادَ إِلَى الْمِنْبَرِ ، فَعَادَ لِمَقَالَتِهِ فِي الشَّحْنَاءِ أَوْ غَيْرِهَا ، ثُمَّ قَالَ : " يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، مَنْ كَانَ عِنْدَهُ شَيْءٌ فَلْيَرُدَّهُ ، وَلَا يَقُلْ : فُضُوحُ الدُّنْيَا ، أَلَا وَإِنَّ فُضُوحَ الدُّنْيَا أَيْسَرُ مِنْ فُضُوحِ الْآخِرَةِ " . فَقَامَ إِلَيْهِ رَجُلٌ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ لِي عِنْدَكَ ثَلَاثَةَ دَرَاهِمَ . قَالَ : " أَمَا إِنَّا لَا نُكَذِّبُ قَائِلًا ، وَلَا نَسْتَحْلِفُهُ ، فَبِمَ صَارَتْ لَكَ عِنْدِي ؟ " . قَالَ : تَذْكُرُ يَوْمَ مَرَّ بِكَ مِسْكِينٌ فَأَمَرْتَنِي أَنْ أَدْفَعَهَا إِلَيْهِ ؟ فَقَالَ : " ادْفَعْهَا إِلَيْهِ يَا فَضْلُ " . ثُمَّ قَامَ إِلَيْهِ رَجُلٌ آخَرُ قَالَ : عِنْدِي ثَلَاثَةُ دَرَاهِمَ غَلَلْتُهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ . قَالَ : " وَلِمَ غَلَلْتَهَا ؟ " . قَالَ : كُنْتُ مُحْتَاجًا إِلَيْهَا . قَالَ : " خُذْهَا يَا فَضْلُ " . ثُمَّ قَالَ : " أَيُّهَا النَّاسُ ، مَنْ خَشِيَ مِنْ نَفْسِهِ شَيْئًا فَلْيَقُمْ أَدْعُ لَهُ " . فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَاللَّهِ إِنِّي لَكَذَّابٌ ، وَإِنِّي لَمُنَافِقٌ ، وَإِنِّي لَنَؤُومٌ ؟ قَالَ : " اللَّهُمَّ ارْزُقْهُ صِدْقًا ، وَإِيمَانًا ، وَأَذْهِبْ عَنْهُ النَّوْمَ إِذَا أَرَادَ " . ثُمَّ قَامَ آخَرُ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي لَكَذَّابٌ ، وَإِنِّي لَمُنَافِقٌ ، وَمَا مِنْ شَيْءٍ مِنَ الْأَشْيَاءِ إِلَّا وَقَدْ أَتَيْتُهُ ! فَقَالَ لَهُ عُمَرُ : يَا هَذَا فَضَحْتَ نَفْسَكَ ! قَالَ : " مَهْ يَا ابْنَ الْخَطَّابِ ، فُضُوحُ الدُّنْيَا أَيْسَرُ مِنْ فُضُوحِ الْآخِرَةِ " . ثُمَّ قَالَ : " اللَّهُمَّ ارْزُقْهُ صِدْقًا ، وَإِيمَانًا ، وَصَيِّرْ أَمْرَهُ إِلَى خَيْرٍ " . ¤ فَكَلَّمَهُمْ عُمَرُ بِكَلِمَةٍ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " عُمَرُ مَعِي ، وَأَنَا مَعَهُ ، وَالْحَقُّ بَعْدِي مَعَ عُمَرَ حَيْثُ كَانَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَأَبُو يَعْلَى بِنَحْوِهِ ، وَقَالَ فِي آخِرِهِ : فَقَامَ رَجُلٌ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي رَجُلٌ جَبَانٌ ، كَثِيرُ النَّوْمِ . قَالَ : فَدَعَا لَهُ . قَالَ الْفَضْلُ : فَلَقَدْ رَأَيْتُهُ أَشْجَعَنَا ، وَأَقَلَّنَا نَوْمًا . قَالَ : ثُمَّ أَتَى بَيْتَ عَائِشَةَ ، فَقَالَ لِلنِّسَاءِ مِثْلَ مَا قَالَ لِلرِّجَالِ ، ثُمَّ قَالَ : " وَمَنْ غَلَبَ عَلَيْهِ شَيْءٌ فَلْيَسْأَلْنَا نَدْعُ لَهُ " . قَالَ : فَأَوْمَأَتِ امْرَأَةٌ إِلَى لِسَانِهَا قَالَ : فَدَعَا لَهَا . قَالَ : فَلَرُبَّمَا قَالَتْ لِي : يَا عَائِشَةُ ، أَحْسِنِي صَلَاتَكِ . ¤ وَفِي إِسْنَادِ أَبِي يَعْلَى عَطَاءُ بْنُ مُسْلِمٍ ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَغَيْرُهُ ، وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِ أَبِي يَعْلَى ثِقَاتٌ ، وَفِي إِسْنَادِ الطَّبَرَانِيِّ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا فضل بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے ، میں نکل کر آپ کے پاس گیا ، تو میں نے آپ کو دیکھا کہ آپ بیمار ہیں اور آپ نے سر پر پٹی باندھی ہوئی ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے فضل ! میرا ہاتھ پکڑ لو ، میں نے آپ کا ہاتھ پکڑا ، یہاں تک کہ آپ منبر کے پاس تشریف لائے ، آپ اس پر تشریف فرما ہوئے ، پھر آپ نے فرمایا : لوگوں کو میرے پاس آنے کے لئے اعلان کر دو ، میں نے لوگوں میں جا کے اعلان کیا تو لوگ اکٹھے ہو گئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کی حمد و ثنا بیان کرنے کے بعد ارشاد فرمایا : ” اے لوگو ! تم لوگوں کے درمیان کچھ ایسے امور ہو سکتے ہیں ، جو میرے ذمہ لازم ہو چکے ہوں ، تو جس شخص کی پشت پر میں نے کوڑا مارا ہو ، تو یہ میری پشت موجود ہے ، وہ بدلہ لے ، خبردار ! کسی شخص کو میں نے برا بھلا کہا: ہو ، تو یہ میری عزت موجود ہے ، وہ بدلہ لے ، جس شخص سے میں نے مال لیا ہو ، تو یہ مال موجود ہے ، وہ بدلہ لے ، کوئی بھی شخص یہ ہرگز نہ کہے : کہ مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے کسی ناراضگی کا اندیشہ بے ، خبردار ! ناراضگی رکھنا ، میری طبیعت کا حصہ نہیں ہے ، اور نہ ہی میری شان ہے ، خبردار ! تم میں سے میرے نزدیک زیادہ محبوب وہ شخص ہو گا ، جو حق وصول کر لے ، اگر اس کا حق بنتا ہو ، یا پھر یہ ہے کہ وہ مجھے معاف کر دے ، تاکہ جب میں اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہوؤں ، تو میں مطمئن ہوؤں ، خبردار ! میں یہ نہیں سمجھتا کہ یہ چیز میرے لئے کفایت کرے گی ، جب تک میں تمہارے درمیان بار بار کھڑا نہیں ہوتا ۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم منبر سے نیچے اترے ، پھر آپ نے ظہر کی نماز ادا کی ، پھر آپ منبر پر گئے اور آپ نے وہی بات دہرائی جو ناراضگی کے بارے میں اور دیگر امور کے بارے میں تھی ، پھر آپ نے ارشاد فرمایا : ” اے لوگو ! جس شخص کے پاس کوئی چیز ہو ، وہ اسے واپس کر دے اور یہ نہ کہے کہ یہ دنیا کی رسوائی ہے ، خبردار ! دنیا کی رسوائی آخرت کی رسوائی سے زیادہ آسان ہے ، تو ایک صاحب آپ کے سامنے کھڑے ہوئے ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میرے آپ کے ذمہ تیس درہم ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ہم کسی بات کرنے والے کو جھوٹا قرار نہیں دیں گے ، اور نہ ہی کسی سے حلف لیں گے ، تم یہ بتاؤ وہ میرے پاس کس حوالے سے آئے تھے ؟ تو اس نے کہا: آپ وہ دن یاد کریں ، جب ایک غریب آدمی آپ کے پاس سے گزرا ، تو آپ نے مجھے یہ ہدایت کی تھی کہ میں اس کو یہ رقم دے دوں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے فضل ! تم اسے وہ رقم دے دو ، پھر ایک اور صاحب آپ کے سامنے کھڑے ہوئے ، انہوں نے عرض کی : میرے پاس تین درہم ہیں ، جو میں نے اللہ کی راہ میں خیانت کے طور پر حاصل کیے تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : تم نے وہ خیانت کے طور پر کیوں حاصل کیے تھے ؟ اس نے عرض کی : مجھے ان کی ضرورت تھی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے فضل ! تم وہ وصول کر لو ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اے لوگو ! جس شخص کو اپنی ذات کے حوالے سے کوئی اندیشہ ہو ، وہ کھڑا ہو جائے ، تو میں اس کے لئے دعا کر دوں گا ، تو ایک صاحب کھڑے ہوئے ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اللہ کی قسم ! میں جھوٹ بہت بولتا ہوں اور میں منافقت بھی کرتا ہوں اور میں سویا بھی رہتا ہوں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی : اے اللہ ! تو اسے سچائی اور ایمان عطا کر دے اور اس سے نیند کو لے جا ، جب یہ ارادہ کرے ( یعنی یہ جب چاہے ، بیدار ہو سکے ) ۔ پھر ایک اور صاحب کھڑے ہوئے ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں جھوٹ بولتا ہوں اور منافقت کرتا ہوں اور جتنے بھی امور ہیں ، میں اُن سب کا ارتکاب کرتا ہوں ، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا: تم نے اپنے آپ کو رسوائی کا شکار کیا ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ابن خطاب رک جاؤ ! دنیا کی رسوائی ، آخرت کی رسوائی سے آسان ہے ، پھر آپ نے دعا کی : ” اے اللہ ! تو اس کو سچائی اور ایمان نصیب کر دے اور اس کے معاملے کو بھلائی کی طرف تبدیل کر دے ۔ “ پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے لوگوں کے ساتھ کچھ بات چیت کی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” عمر میرے ساتھ ہے ، اور میں اس کے ساتھ ہوں اور میرے بعد حق ، عمر کے ساتھ ہو گا ، یہ جہاں بھی ہو گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور امام ابویعلیٰ نے اس کی مانند نقل کی ہے ، انہوں نے اس کے آخر میں یہ الفاظ بیان کیے ہیں : ” ایک شخص کھڑا ہوا ، اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں ایک بزدل شخص ہوں ، جو زیادہ تر سویا رہتا ہے ، راوی کہتے ہیں : تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لئے دعا کی ، سیدنا فضل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : بعد میں ، میں نے اس شخص کو دیکھا کہ وہ ہم سب سے زیادہ بہادر تھا اور ہم سب سے کم سوتا تھا ۔ راوی بیان کرتے ہیں : پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر تشریف لے گئے ، آپ نے خواتین سے بھی اسی کی مانند بات ارشاد فرمائی ، جو آپ نے مردوں سے فرمائی تھی اور پھر آپ نے فرمایا : جس پر کوئی چیز غالب ہو ، وہ ہم سے کہے ، ہم اس کے لئے دعا کریں گے ، راوی کہتے ہیں : تو ایک خاتون نے اپنی زبان کی طرف اشارہ کیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خاتون کے لئے دعا کی ، راوی بیان کرتے ہیں : حالانکہ اس عورت نے چند مرتبہ مجھ سے یہ کہا: اے عائشہ ! تم نماز اچھے طریقے سے ادا کیا کرو ۔ امام ابویعلیٰ کی سند میں ایک راوی عطاء بن مسلم ہے ، جسے ابن حبان اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا: ہے ، امام ابویعلیٰ کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ، امام طبرانی کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 14252
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (6824) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (280/18)»