حدیث نمبر: 1425
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ صَلَّى بِالنَّاسِ وَهُوَ جُنُبٌ ، فَلَمَّا قَدِمُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ ذَكَرُوا ذَلِكَ لَهُ ، [ فَدَعَاهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ، فَسَأَلَهُ عَنْ ذَلِكَ ] فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، خَشِيتُ أَنْ يَقْتُلَنِي الْبَرْدُ ، وَقَدْ قَالَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - ( وَلَا تَقْتُلُوا أَنْفُسَكُمْ إِنَّ اللَّهَ كَانَ بِكُمْ رَحِيمًا ) ، فَسَكَتَ عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ يُوسُفُ بْنُ خَالِدٍ السَّمْتِيُّ ، وَهُوَ كَذَّابٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے جنابت کی حالت میں لوگوں کو نماز پڑھا دی ، جب وہ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ، تو انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے یہ بات بھی ذکر کی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بلوایا اور ان سے اس بارے میں دریافت کیا ، تو انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! مجھے یہ اندیشہ ہوا کہ سردی مجھے مار ڈالے گی ، اور اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے : ” تم اپنے آپ کو قتل نہ کرو ، بے شک اللہ تعالیٰ تم لوگوں کے لیے رحم کرنے والا ہے “ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کی بات پر خاموش رہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یوسف بن خالد سمتی ہے اور وہ کذاب ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطهارة / حدیث: 1425
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ موضوع