مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب علامات النبوة— نبوت کی علامات کے بارے میں روایات
بَابُ تَخْيِيرِهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَيْنَ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ باب: نبی اکرم ﷺ کو دنیا اور آخرت کے درمیان اختیار دیا جانا
حدیث نمبر: 14249
وَعَنْ أَبِي وَاقَدٍ اللِّيثِيِّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " خُيِّرَ عَبْدٌ مِنْ عِبَادِ اللَّهِ بَيْنَ الدُّنْيَا وَمُلْكِهَا وَنَعِيمِهَا وَبَيْنَ الْآخِرَةِ ، فَاخْتَارَ الْآخِرَةَ " . فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : بَلْ نَفْدِيكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، بِأَمْوَالِنَا وَأَنْفُسِنَا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ الْحِمَّانِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤محمد محی الدین
سیدنا ابوواقد لیثی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اللہ کے بندوں میں سے ایک بندے کو ، دنیا اس کی بادشاہی ، اس کی نعمتوں اور آخرت کے درمیان اختیار دیا گیا ، تو اس نے آخرت کو اختیار کر لیا ، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہم اپنے اموال اور جانیں آپ کے فدیے میں دے دیں گے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن عبدالحمید حمانی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔