حدیث نمبر: 14245
وَعَنْ عَائِشَةَ : إِنَّهَا كَانَتْ تَقُولُ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي مَرَضِهِ الَّذِي قُبِضَ فِيهِ قَالَ لِفَاطِمَةَ : " يَا بُنَيَّةُ احْنِي عَلَيَّ فَأَحْنَتْ عَلَيْهِ فَنَاجَاهَا سَاعَةً ثُمَّ انْكَشَفَتْ وَهِيَ تَبْكِي وَعَائِشَةُ حَاضِرَةٌ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ ذَلِكَ بِسَاعَةٍ : احْنِي عَلَيَّ يَا بُنَيَّةُ فَأَحْنَتْ عَلَيْهِ فَنَاجَاهَا سَاعَةً ثُمَّ انْكَشَفَتْ عَنْهُ فَضَحِكَتْ . قَالَتْ عَائِشَةُ : فَقُلْتُ : أَيْ بُنَيَّةُ أَخْبِرِينِي مَاذَا نَاجَاكِ أَبُوكِ فَقَالَتْ فَاطِمَةُ : نَاجَانِي عَلَى حَالِ سِرٍّ ، ظَنَنْتِ أَنِّي أُخْبِرُ بِسِرِّهِ وَهُوَ حَيٌّ ، فَشَقَّ ذَلِكَ عَلَى عَائِشَةَ أَنْ يَكُونَ سِرًّا دُونَهَا ، فَلَمَّا قَبَضَهُ اللَّهُ قَالَتْ عَائِشَةُ لِفَاطِمَةَ : يَا بُنَيَّةُ أَلَا تُخْبِرِينِي بِذَلِكَ الْخَبَرِ ، قَالَتْ : أَمَّا الْآنَ فَنَعَمْ ، نَاجَانِي فِي الْمَرَّةِ الْأُولَى فَأَخْبَرَنِي " أَنَّ جِبْرِيلَ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يُعَارِضُهُ بِالْقُرْآنِ فِي كُلِّ عَامٍ مَرَّةً ، وَإِنَّهُ عَارَضَنِي بِالْقُرْآنِ الْعَامَ مَرَّتَيْنِ . وَأَخْبَرَنِي : أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ لَمْ يَكُنْ نَبِيٌّ إِلَّا عَاشَ نِصْفَ عُمُرِ الَّذِي كَانَ قَبْلَهُ . وَأَخْبَرَنِي : أَنَّ عِيسَى بْنَ مَرْيَمَ عَاشَ عِشْرِينَ وَمِائَةَ سَنَةٍ ، وَلَا أُرَانِي إِلَّا ذَاهِبًا عَلَى رَأْسِ السِّتِّينَ " . فَأَبْكَانِي ذَلِكَ ، فَقَالَ : " يَا بُنَيَّةُ ، إِنَّهُ لَيْسَ مِنْ نِسَاءِ الْمُسْلِمِينَ امْرَأَةٌ أَعْظَمُ رَزِيَّةً مِنْكِ ، فَلَا تَكُونِي أَدْنَى مِنَ امْرَأَةٍ صَبْرًا " . قُلْتُ : فَذَكَرَ الْحَدِيثَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِإِسْنَادٍ ضَعِيفٍ ، وَرَوَى الْبَزَّارُ بَعْضَهُ أَيْضًا ، وَفِي رِجَالِهِ ضَعْفٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا جس بیماری کے دوران وصال ہوا ، اس بیماری کے دوران نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا : اے میری بیٹی ! میرے پاس آ جاؤ ، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب ہو گئیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ دیر سرگوشی میں ان کے ساتھ کوئی بات چیت کی ، جب وہ پیچھے ہٹیں تو وہ رو رہی تھیں ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا وہاں موجود تھیں ، پھر اس کے کچھ دیر بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا : میری بیٹی میرے پاس آ جاؤ ! وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر جھک گئیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سرگوشی میں ان سے کوئی بات کی ، پھر وہ پیچھے ہٹیں ، تو وہ ہنس رہی تھیں ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : میں نے کہا: اے میری بیٹی ! تم مجھے بتاؤ کہ تمہارے والد نے تمہارے ساتھ سرگوشی میں کیا بات چیت کی ہے ؟ تو سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: انہوں نے میرے ساتھ ایک راز کی بات کی ہے ، تو کیا آپ یہ سمجھتی ہیں کہ میں ان کی زندگی میں ان کے راز کے بارے میں بتا دوں گی ؟ یہ بات سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو گراں گزری کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی بجائے کسی اور کے ساتھ راز کی بات کی ہے ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہو گیا ، تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے کہا: اے میری بیٹی ! کیا تم مجھے اس کے بارے میں نہیں بتاؤ گی ؟ تو انہوں نے کہا: جی ہاں اب ٹھیک ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلی مرتبہ مجھے سرگوشی میں یہ بتایا کہ جبرائیل ہر سال ایک مرتبہ آپ کے ساتھ قرآن کا دور کرتے تھے ، اس سال انہوں نے دو مرتبہ میرے ساتھ دور کیا ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یہ بتایا کہ جبرائیل نے انہیں یہ بتایا تھا کہ جو بھی نبی زندہ رہتا ہے ، وہ اپنے سے پہلے نبی کی نصف عمر تک رہتا ہے ، اور انہوں نے مجھے یہ بھی بتایا تھا کہ سیدنا عیسیٰ بن مریم علیہ السلام ایک سو بیس سال تک زندہ رہے تھے ، تو اپنے بارے میں میرا یہ خیال ہے کہ ساٹھ سال کی عمر میں میرا انتقال ہو جائے گا ( سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : ) تو اس بات پر مجھے رونا آ گیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے میری بیٹی ! مسلمانوں کی خواتین میں کوئی خاتون ایسی نہیں ہے کہ جس کو تم سے زیادہ بڑی مصیبت کا سامنا کرنا ہو ، تو تم صبر کرنے کے حوالے سے کسی عورت سے کم نہ ہونا ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں ۔ اس کے بعد انہوں نے پوری حدیث ذکر کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے ضعیف سند کے ساتھ نقل کی ہے ، امام بزار نے بھی اس کا کچھ حصہ نقل کیا ہے ، اور اس کے رجال میں ضعف پایا جاتا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 14245
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (846) أخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (416/22)»