حدیث نمبر: 14242
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : لَمَّا نَزَلَتْ إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ ، دَعَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَاطِمَةَ ، فَقَالَ : " إِنَّهُ نُعِيَتْ إِلَيَّ نَفْسِي " . فَبَكَتْ ، فَقَالَ لَهَا : " لَا تَبْكِي ; فَإِنَّكِ أَوَّلُ أَهْلِي لَاحِقٌ بِي " . فَضَحِكَتْ ، فَرَآهَا بَعْضُ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَتْ : رَأَيْتُكِ بَكَيْتِ وَضَحِكْتِ ؟ ! فَقَالَتْ : إِنَّهُ قَالَ لِي : " قَدْ نُعِيَتْ إِلَيَّ نَفْسِي " . فَبَكَيْتُ ، فَقَالَ : " لَا تَبْكِي ; فَإِنَّكِ أَوَّلُ أَهْلِي لَاحِقٌ بِي " . فَضَحِكْتُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرُ هِلَالِ بْنِ خَبَّابٍ ، وَهُوَ ثِقَةٌ ، ، وَفِيهِ ضَعْفٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں : جب یہ سورت نازل ہوئی ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ” جب اللہ کی مدد اور فتح آ گئی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ ۔ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو بلایا اور فرمایا : مجھے میرے وصال کی اطلاع دے دی گئی ہے ۔ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا رونے لگیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا : تم نہ روؤ ! کیونکہ میرے اہل خانہ میں سے سب سے پہلے تم مجھ سے آ کے ملو گی ، تو وہ ہنسنے لگیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک زوجہ محترمہ نے دیکھا ، تو کہا: میں نے آپ کو دیکھا کہ آپ پہلے روئیں اور پھر ہنسنے لگیں ؟ تو سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یہ بتایا ہے کہ مجھے میرے وصال کی اطلاع دی گئی ہے ، تو میں رونے لگی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم نہ روؤ ! کیونکہ میرے اہل خانہ میں سب سے پہلے تم مجھ سے ملو گی ، تو میں ہنس پڑی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف ہلال بن خباب کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ، اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 14242
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط (887) أخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (11907)»